جنگجوئوں کی نماز جنازہ میں لوگوں کی پیش قدمی روکنے کیلئے نئی حکمت عملی آبائی گائوں کو سیل کرنے اور جائے واردات پر چار دائروں والی سیکورٹی کی تعیناتی کا فیصلہ

سرینگر/ یو پی آئی /سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران جاں بحق عسکریت پسندوں کی نماز جنازہ میں کم سے کم لوگوں کی تعداد کو یقینی بنانے کی خاطر سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے نئی حکمت عملی ترتیب دی جارہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ نئی دہلی میں اس سلسلے میں گفت شنید ہورہی ہے کہ کس طرح سے لوگوں کو عسکریت پسندوں کی نمازہ جنازہ سے روکا جا سکے۔معلوم ہوا ہے کہ نئی حکمت عملی کے تحت عسکریت پسند کے آبائی گائوں کو کانٹے دار تار سے سیل کرنے اور آس پاس گائوں میں سیکورٹی فورسز کی تعیناتی کو یقینی بنانے پر زور/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 دیا گیا ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ عسکریت پسندوں کی نماز جنازہ میں لوگوں کی بھاری شرکت کے نتیجے میں مقامی نوجوان ملی ٹینسی کی اور مائل ہو رہے ہیں اور اس کا توڑ کرنے کیلئے نئی حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے عسکریت پسندوں کی نماز جنازہ میں لوگوں کی پیش قدمی کو روکنے کی خاطر نئی حکمت عملی ترتیب د ی ہے جس کے تحت جاں بحق جنگجو کے آبائی گائوں کو پوری طرح سے سیل کرنے اور آس پاس علاقوں میں اضافی فورسز کی تعیناتی کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کولگام میں جاں بحق جنگجو کمانڈر زینت السلام کی میت جونہی اُس کے آبائی گائوں سوگن پہنچائی گئی تولوگوں کی پیش قدمی کو روکنے کیلئے سیکورٹی فورسز کو جگہ جگہ پر تعینات کیا گیا اگر چہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ سوگن گائوں پہنچنے میں کامیاب ہوئے تاہم زیادہ تر لوگوں کو سیکورٹی فورسز نے سوگن کے نزدیکی گائوں میں ہی روکا جس دوران جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ذرائع نے بتایا کہ نماز جنازہ میں عسکریت پسندوں کی جانب سے سلامی دینے کا بھی معاملے پر بھی غور ہو رہا ہے کہ کس طرح عسکریت پسندوں کو سلامی دینے سے روکا جاسکے۔ کیونکہ سیکورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ نماز جنازہ کے دوران ہی عسکریت پسندوں کو دیکھ کر مقامی نوجوانوں کے جذبات مجروح ہو جاتے ہیں اس لئے وہ جنگجو صفوں میں شمولیت اختیار کرنے سے بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں