کپوارہ کی خاتون کو سرراہ بچی کو جنم دینے پر مجبور کرنے کا معاملہ لل دید ہسپتال کے ڈاکٹروں کی سفاکی، انتظامیہ بے حس وحرکت ڈاکٹر کو لائن حاضر کردیا گیا، تحقیقات شروع

سرینگر/ کے این ایس /لل دید اسپتال کے بعض ڈاکٹروں کی جانب سے درد زہ میں مبتلا خاتون کو سر راہ بچنے کو جنم دینے پر مجبور کرنے کے معاملے پرسیاسی سماجی اور عوامی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ملوثین کے خلاف شدید کارروائی کا مطالبہ کیا تاکہ آئندہ انسانی جانوں کے ساتھ دوبارہ ا س قسم کا کھیل نہ کھیلا جائے ۔ اس دوران سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ،عمر عبداللہ ،سجاد غنی لون اور جموں کشمیر گوجر بکروال کانفرنس کے محمد یاسین پسوال نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے باریک بینی سے تحقیقات اور غیر فرض سناس ڈاکڑوں کے خلاف سخت کاروائی کا گورنر انتظامیہ سے مانگ کی ہے ۔ اس دوران معلوم ہوا کہ صوبائی انتظامیہ نے واقعے کاشدید نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کا/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
حکم دیکر ملوث ڈاکٹروں کے خلاف سخت کاروائی کی یقین دہانی کی ہے ۔ وادی کشمیر کے سب سے بڑے زنانہ اسپتال لل دید اسپتال میں تعینات ڈاکٹروںکی جانب سے سرحدی ضلع کپوارہ کے ایک دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھنے والی درد زہ میں مبتلا ایک خاتون کو اسی حالت میں اسپتال سے وحشیانہ طریقے سے رخصت کرنے اورنوزائدبچے کو سر راہ جنم دینے پر مجبور کرنے کے واقعے پر پوری وادی میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ اس دوران عوامی حلقوں کے ساتھ ساتھ سیاسی ، سماجی اور دیگر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوںنے پیش آئے واقعے پر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوے ملوث ڈاکٹروںکے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ۔اس دوران واقعے پر سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی،ر عمر عبد اللہ ،پیپلز کانفرنس کے چیرمین سجاد غنی لون نے اپنے الگ الگ بیانات میں واقعے پر شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ملوث ڈاکٹروں کے خلاف شدید کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹ پوسٹ میں لکھا ہے کہ یہ ایک دل دہلانے والا واقعہ ہے کہ ایک دردہ زہ میں مبتلا ایک خاتون کو معروف صوفی شخصیت لل دید کے نام سے منصوب اسپتال سے سخت دسردی میں اسپتال سے باہر نکالانے اور سر راہ منفی درجہ حرارت میںبچے کو جنم دینے کے معاملے پر شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا والدین اس درد کو محسوس کر سکتے ہیں ۔ اس دوران عمر عبد اللہ نے اپنے بیان میںواقعے پر شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ اس المناک واقعے پر انتظامیہ سخت کاروائی کریں ۔ انہوں نے گور نر ستیہ پال ملک سے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ادھر پیپلز کانفرنس کے چیرمین سجاد غنی لون نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ نے خاتون کو اسپتال میں ایڈ مٹ نہ کرنے اور سرہ راہ بچنے کو سر راہ جنم دینے کے دل سوز واقعے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے واقعے میں ملوث ڈاکٹروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ۔ ادھر جموں کشمیر گوجر بکروال کانفرنس کے جنرل سیکریٹری محمد یاسین پسوال نے واقعے پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے واقعے میں ملوث ڈاکٹروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے بتایا اگر یہ طبقہ کے لوگ ہر بار سرکار سے مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ دہی علاقوں میں سہولیات بہم ررکھا جائے تاہم آج تک کھو کھلے وعدوں کے سواک کچھ بھی نہیں ملا ۔ادھرایم ایل سی قیصر جمشید لون ، پردیش کانگریس کے صدر ، غلام احمد میر نے بھی واقعے پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ملوث داکٹروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس دواران زرائع سے معلوم ہوا کہ صوبائی انتظامیہ نے واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے صوبائی کمشنر بصیر احمد خان نے کہا کہ پرنسپل /ڈین جی ایم سی کو تحقیقات کرکے حقائق کا پتہ لگانے کا حکم دیدیا گیا ہے۔تاکہ اس جرم میں ملوث ڈاکٹرکیخلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔لل دید اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر شبیر صدیقی نے بتایامعاملہ پہلے ہی متعلقہ شعبہ کی سربراہ ڈاکٹر فرحت جبین کے ساتھ اْٹھایا گیا ہے۔جنہوں نے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک اْس ڈاکٹر کو پرنسپل جی ایم سی کے ساتھ منسلک کیا ہے جو واقعہ کے وقت ڈیوٹی پر تھا۔خیال رہے سرحدی ضلع کپوارہ کے دور افتادہ علاقے مورہ سے تعلق رکھنے والے وزیر احمد خان کی اہلیہ سُریہ بانوں نے جمعہ کے روز درد زہ کی شکایت کی ہے جس کے بعد علاقے میں برف کی وجہ سے تمام رابطہ سڑکیں بند ہونے کے نتیجے میں یہاں برادی کے لوگوں نے مریضہ کو ایک چار پائی پر اٹھا کر کلا روس اسپتال پہنچایا ۔اس دوران ڈاکٹروں نے ملاخظ کے بعد مریضہ کو کپوارہ اسپتال منتقل کیا ۔جہاں سے تعینات ڈاکٹروں نے مریضہ کی حالت کو دیکھ ایک ایمولنس گاڑی فراہم کرکے وادی کے سب سے بڑے اورواحد زنانہ اسپتال لل دید اسپتال سرینگر منتقل کیا ہے۔اس دوران خاتون کو اسپتال میں منتقل کرنے کے بعد یہاں تعینات ڈاکٹروں نے وحشیانہ طریقہ اپنا کر خاتون کو ایڈ مٹ کرنے سے انکار کرتے ہوئے رات کے ساڑے آٹھ بجے اسپتال سے زبردستی سے باہر نکالا ۔ باتیا یا جاتا ہے کہا گر چہ اس دوران خاتون کے رشتہ داروں نے ڈاکٹروںسے منت سماجت کی ہے کہ ہم شہر سے150کلومیٹردور رہتے ہیں اس وقت ہم کہا جائیں گے ۔تاہم غیر فرض شناس ڈاکٹر نے ایک بھی نہ سنی اور مریضہ کواسپتال سے باہر دھکیل دیا جس کے کچھ منڈ بعد خاتون نے سر راہ منفی درجہ حرارت میں ایک مردہ بچے کو جنم دیا ہے ۔واقعے کی خبر منظر عام پر آنے کے ساتھ ہر جسم میں حساس دل رکھنے والے انسان کی آنکھ دیکھ رو پڑی۔اور ہر ایک یہی مطالبہ کر رہا ہے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مثالی کاروائی ہونی چاہے تاکہ آئندہ اس قسم کا یہ شرمناک واقعہ پیش نہ آسکے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں