ہوائی سروس اور سرینگر جموں شاہراہ

وادی کا کل یعنی بدھ 6فروری کو بیرون دنیا سے پھر زمینی اور ہوائی رابطہ منقطع رہا۔ سرینگر کے شیخ العالم ہوائی اڈے پر ہزاروں لوگ دن بھر پر اُمید نظروں سے آسمان کی طرف تک رہے تھے کہ کب برفباری اور بارشوں کا سلسلہ بند ہوگا اور کب وہ جہاز میں سوار ہوکر منزل مقصود تک پہنچ جاینگے۔ اسی طرح سرینگر سے جموں کی طرف جو ہزاروں لوگ گاڑیوں میں سوار ہوکر نکل پڑے وہ سڑک بند ہونے کی بنا پر قاضی گنڈ سے آگے بڑھ نہ سکے۔ وہ واپس گھروں کو لوٹ آتے لیکن کھنہ بل سے قاضی گنڈ تک اس قدر ٹریفک جام تھا کہ کوئی بھی چھوٹی بڑی گاڑی اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ موڑ کاٹ کر واپس آسکے۔ اس طرح ان گاڑیوںمیں سوار لوگ جن میں چھوٹے بچے بوڑھے اور خواتین کے علاوہ وہ بیمار بھی شامل تھے جو جموں میں علاج معالجہ کرنے کیلئے گھروں سے روانہ ہوئے تھے دن بھر تکلیف میں رہے ۔اس سال چونکہ موسم نے وادی میں قہر ڈھایا اسلئے یہاںپورا نظام زندگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گیا سرینگر جموں شاہراہ بار بار ٹریفک کیلئے بند ہوتی رہی اور ہوائی سروس بھی بار بار موسم کی خرابی کی بنائ پر متاثر رہی ایک تو موسم کی قہر سامانیاں اور دوسری جانب بیرون ملک کاوادی سے رابطہ منقطع رہا۔ لوگ نا قابل بیان حد تک مشکلات میں مبتلا رہے اور ہزاروں کروڑوں کا نقصان ہوا اور بہت سے نوجوان وقت پر انٹرویوز میں شامل نہیں ہوسکے۔ جن بیروز گار نوجوانوں کو روزگار کے سلسلے میں بیرون ریاست جانا تھا وہ بھی وقت پر منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکے نتیجے کے طور پر ان کیلئے روز گا ر کا بندو بست نہیں ہوسکا۔ تاجروں کا بھی الگ سے نقصان۔ ہوائی کرایہ کی شرحوں میں ناقابل برداشت حد تک اضافے کی بنائ پراب زیادہ سے زیادہ لوگ سڑک کے راستے ہی سفر کرنا پسند کرتے ہیں لیکن شاہراہ اکثر و بیشتر بند رہتی ہے۔ جس کی کئی وجوہات ہیں سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جس ایجنسی کے ذمہ اس سڑک کی دیکھ ریکھ ہے وہ اپنے فرایض خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دینے سے قاصر نظر آتی ہے۔ اسی لئے شاہراہ پر بار بار ٹریفک جام ہوجاتا ہے اور ٹریفک جامنگ بھی بذات خود ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اس سڑک پر جو لوگ اکثر و بیشتر سفر کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹریفک حکام ون وے ٹریفک رولز پر سختی سے کا ربند رہتے تو یہ صورتحال پیش نہیں آسکتی تھی اور گاڑیاں آرام سے چلتیں لیکن سڑک پر تعینات ٹریفک عملہ بھی اپنے فرایض منصبی اچھی طرح سے نہیں نبھاتا ہے۔ اس سڑک کی کشادگی کا کام جس تعمیراتی کمپنی کو سونپا گیا ہے شاید اس کمپنی کے پاس ماہر انجینئروںکی کمی ہے کیونکہ جب سڑک کشادہ کرنے کا مسئلہ درپیش ہو تو اس وقت یہ جانچنا لازمی ہوتا ہے کہ کہیں اس سے چٹانیں لڑھکنے کا عمل شروع تو نہیں ہوگا۔ کیونکہ کہاجارہا ہے سڑک کو کشادہ بنانے کیلئے چونکہ بلاسٹنگ کی جاتی ہے جس سے مقامی پہاڑی میں چٹانیں ہلنے لگتی ہیں اور معمولی بارشوں یا برفباری کے نتیجے میں وہ نیچے لڑھکنا شروع ہوجاتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ درختوں کی جو جڑیں پہاڑی کو باندھے رکھتی ہیں بلاسٹنگ سے وہ جڑیں ڈھیلی پڑ جاتی ہونگی اور یہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے کہ شاہراہ پر اب بار بار مٹی کے تودے اور پسیاں گرتی رہتی ہیں ۔یہ صرف انجینئرنگ کا کام ہے اور انجینئرہی اس بارے میں ماہرانہ رائے دے سکتے ہیں کہ اس سلسلے کو کیسے روکا جاسکتا ہے۔ متعلقہ کمپنی کو ماہر جیالو جسٹس کی خدمات بھی حاصل کرنی چاہئے تاکہ معمولی بارشوں سے چٹانوں اورمٹی کے تودے گرنے کے عمل کو روکا جاسکے۔ اس سے ہوائی کمپنیوں کی اجاہ راداری اور کشمیری عوام کو لوٹنے کا عمل مختصر کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں