سبری مالا مندر:نظر ثانی کی عرضی پر فیصلہ محفوظ

نئی دہلی﴿یو این آئی ﴾ سپریم کورٹ نے کیرالا کے سبری مالا میں واقع ایپا مندر میں تمام عمر کی خواتین کو اجازت دینے کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواستوں پر بدھ کواپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس روھگٹن ایف نریمن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اندو ملہوترا کی آئینی بنچ نے تمام متعلقہ فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔سابق چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے گزشتہ سال 28ستمبر کے اکثریت کی بنیاد پر فیصلے میں 10سے 50سال کی عمر کی عورتوں کو سبري مالا مندر میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی، جس کے خلاف کئی نظر ثانی عرضیاں دائر کی گئی تھی ۔الگ الگ درخواست دہندگان کی طرف سے سینئر وکلائپراسرن وی گری، ، ڈاکٹر ابھیشک منو سنگھوی، شیکھر نافاڈے اور آر ونکٹ رمانی نے جرح کی ۔ ان تمام نے دلیل دی کہ آئینی اخلاقیات مذہب-عقیدے کے معاملات میں استعمال نہیں کیا جانا چاہئے ۔کیرالہ حکومت کی جانب سے سینئر وکیل جے دیپ گپتا نے نظرثانی کی درخواستوں کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ پر نظر ثانی کے لئے کوئی بنیاد فراہم نہیں کی گئی ہے ۔ترانکوور دیوسوم بورڈ ﴿ٹی ڈی بی﴾ کا موقف رکھنے والے سینئر وکیل راکیش دویدی نے بھی فیصلے پر نظر ثانی کی عرضی کی مخالفت کی ہے ۔ بورڈ کے موقف میں تبدیلی کے سلسلے میں جسٹس ملہوترا نے مسٹر دویدی سے سوال کئے جس پر انہوں نے کہا کہ بورڈ نے آئینی بینچ کے فیصلے کا احترام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
\مندر میں داخل ہونے والی دو عورتوں بندو اور کنک درگا کی طرف سے پیش سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا کہ ان کی مؤکل کی جان کو خطرہ ہے ۔ تقریبا چار گھنٹے تک چلنے والی طویل سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں