قہرانگیز برفباری۔ انتظامیہ کی غفلت شعاری ناقابل یقین

جمعرات 7فروری کو وادی بھر میں ریکارڈ توڑ برفباری ہوئی جس سے نہ صرف روز مرہ کی زندگی متاثر ہوکر رہ گئی بلکہ پورا نظام زندگی درہم برہم ہوکر رہ گیا۔ اس برفباری نے کئی جانیں بھی لیں اور اس سے کروڑوں کا نقصان بھی ہوا ہے۔ لیکن جہاں تک صوبائی انتظامیہ کا تعلق ہے تو سوائے بیانات جاری کرنے کے سوا کوئی ایسا عملی کام نہیں کیاگیا جس سے لوگوں کو واقعی راحت ملتی۔ جمعرات کی صبح جب لوگ نیند سے بیدار ہوئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہر سو برفانی چادر بچھی ہوئی تھی اور اوپر سے برفباری ہورہی تھی۔ تقریباً چار بجے تک شہر کی کسی بھی سڑک یا گلی کوچے سے برف نہیں ہٹائی گئی تھی جس کی بنا پر ملازمین کیلئے دفاتر جانا ناممکن بن گیا اور دکانداروں نے بھی گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا کہیں نام و نشان تک نہیں دیکھا گیا کیونکہ جب سڑکوں پر برف کے انبار جمع ہوئے تھے تو گاڑیاں چلانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ جب اس کیخلاف سوشل میڈیا پر لوگوں نے زبردست احتجاج کیا تو سہہ پہر چار بجے کے بعد شاید سول لائینز میں ایک آدھ برف ہٹانے والی مشینوں کو سڑکوں سے برف صاف کرتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ شہر خاص اور گلی کوچوں میں برف ہی برف نظر آرہی تھی۔ شہر کے مقابلے میں قصبہ جات اور دیگر بڑے گائوں میں ایسی صورتحال نہیں تھی۔ اس تباہ کن برفباری نے سرینگر میونسپلٹی کا اصل چہرہ عوام کے سامنے لایا۔ جب سرینگر میونسپلٹی کے کونسلروں کا انتخاب ہوا تو لوگوں کو اس بات کی امید تھی کہ اب ان کے بلدیاتی مسایل حل ہونگے لیکن یہ بات بلا جھجھک کہی جاسکتی ہے اس وقت پہلے سے زیادہ بلدیاتی مسایل لوگوں کو درپیش ہیں۔ جب معمولی برفباری ہوتی تھی تو میونسپلٹی کی طرف سے اسے ہٹانے کیلئے بڑے پیمانے پر انتظامات کئے جاتے تھے لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ اتنی زیادہ برفباری ہوئی۔ لوگ پریشان ہوگئے لیکن کہیں بھی میونسپلٹی کا ایک بھی اہلکار نظر نہیں آیا۔ لوگ اس پر حیران ہیں کہ آخر کار میونسپلٹی کا کیا کام ہے ؟ کونسلروں کی کون سی ذمہ داریاں ہیں۔ ٹھیکے لینے، عزیز و اقارب کیلئے نوکریوں کے مواقع ڈھونڈنے اور ایک دوسرے پر الزامات جوابی الزامات عاید کرنے اور ایک دوسرے پر حملوں کیلئے کونسلر منتخب نہیں کئے جاتے ہیں بلکہ ان کا کا م یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے بلدیاتی مسایل حل کروانے کیلئے اقدامات کریں۔ لیکن افسوس سرینگر میونسپلٹی نے حالیہ برفباری سے پیدا شدہ صورتحال کے حوالے سے کوئی بھی کام نہیں کیا اس طرح لوگوں کے مسایل و مشکلات بڑھتے گئے۔ اگرچہ پاور کی سپلائی پوزیشن پہلے سے قدرے بہتر رہی لیکن اس کے باوجود اس میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ کئی علاقے ایسے بھی ہیں جہاں اب بھی کئی کئی گھنٹے بجلی بند رکھی جارہی ہے آج کے زمانے میں بجلی کی اہمیت اور افادیت بڑھتی جارہی ہے اسلئے متعلقہ محکمے کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے۔ گورنر کو اس بات کا نوٹس لینا چاہئے کہ حالیہ برفباری کے دوران لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے کو ششیں کیوں نہیں کی گئیں۔ اسلئے غفلت شعاری کا مظاہرہ کرنے کے مرتکب افسروں اور اہلکاروں کیخلاف سخت کاروائی کی جانی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں