خطہ پیر پنچال کیساتھ امتیازی سلوک ناقابل برداشت ہم خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھیں گے، جب 2.7 لاکھ آبادی پر مشتمل علاقے کو صوبے کا درجہ دیاجائے گا تو 13 لاکھ نفوس پر مشتمل خط پیر پنچال کو نظر انداز کرناباعث افسوس : مقامی رہنما

سرینگر/ یو پی آئی /لداخ کو صوبہ کا درج دینے کے خلاف خط پیر پنچال اور چناب میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرئے کئے اور گورنر انتظامیہ سے فوری طورپر چناب کو صوبہ کا درجہ درینے کا مطالبہ کیا۔ سابق ممبر ان اسمبلی نے لوگوں کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 گورنر انتظامیہ نے اُن کی جائز مانگ کو پورا نہیں کیا تو ہم پوری شدت کے ساتھ ایجی ٹیشن شروع کرئینگے۔ سابق ممبر اسمبلی راجوری قمر حسین چودھری نے راجوری میں پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہاکہ لداخ کو خطہ کا درجہ دئے جانے کو خوش آہند اور خطہ پیر پنچال کو ایک بار پھر نظر انداز کئے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ۔ممبر موصوف نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایک ایسا سرحدی خطہ ھے جہاں دونوں ممالک کی گولہ باری سے نہ صرف مال و جائیداد کو نقصان پہنچا بلکہ خون کی ندیاں چلیں لیکن ملک کی آن بان اور شان میں خطہ کی عوام نے کبھی فرق نہیں آنے دیا مگر ستر سالہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے دور اقتدار نے عوامی امنگوں کا خون کیا اور صرف بطور ووٹ استعمال کرو اور پھینکو کی پالیسی اپنائے رکھی جس سے عوام بخوبی واقف ھے لیکن عوام کی دیرینہ مانگ کہ خطہ کو ہل ڈیولپمنٹ کونسل یا صوبہ کا درجہ دیا جائے کو ھمیشہ درگزر کیا جاتا رھا خطہ ایک سرحدی اور دشوار گزرا علاقہ ھے جہاں لوگوں کا دار ومدار کھیتی باڑی اور محنت ومشقت ھے جہاں سرکاری نوکریوں کے علاوہ کوئی دوسرا ذرایع نہ ھے، مگر تمام سرکاروں نے ھمیشہ بلند بانگ دعوے کرکے اقتدار حاصل کیا اور پھر بھول جاتے رھے ان باتوں کا اظہار وہ پریس کانفرنس میں دوران خطاب کررھے تھے۔ قمر حسین چوھدری نے اخباری نماہندوں سے بات کرتے ھوئے کہا کہ ایوان بالا میں خطہ کو صوبہ اور ہل ڈیولپمنٹ کونسل کا درجہ دینے کی مانگ میں نے بذات خود اٹھائی تھی اور یقین تھا کہ خطہ کیساتھ اب کی بار انصاف کیا جائے گا لیکن دوبارہ گورنر انتطا میہ نے ناانصا فی کرکے عوام پیر پنچال کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ھے کیونکہ سرحدی اضلاع کی عوام نے ھمیشہ مشکلات کا سامنا کیا ھے اور جب بھی ریاستی و مرکزی سرکاروں نے کوئی پرجیکٹ لگائے ہیں وہ صرف اور صرف جموں اور سرینگر کے شہروں کیلئے منظور ھوئے ہیں چائے وہ ایمز ھو، آئی آئی ٹی ھو یا آئی آئی ایم، یونیورسٹی ھو یا کالج، ھائیر سکنڈری سکولوں کی منظوری ھو یا سکنڈری سکولوں کو منظوری خطہ پیر پنچال کو ھمیشہ نظر انداز کیا گیا ھے، سڑکیں تباہ حال، سکولوں کی حالت ناگفتہ بہہ، سیاحت کا نام ونشان ہی نہیں، انڈسٹریل ڈیولپمنٹ صفر میں نے ان تمام مطالبات و مساہل کو لیکر بار بار ھاؤس میں آواز بلند کی اور کسی حد تک ھم خطہ کی ترقی کرنے میں کامیاب بھی ھوئے جہاں پی ڈی پی سرکار نے خطہ کو مغل روڈ دی وہیں شاھدرہ شریف میں سیاحت کو فروغ دیا، باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی دی، میڈیکل کالج کی تعمیر جاری ھے اسکے علاوہ خطہ کو دو بڑی اور متعدد بار اقتدار میں رھنے والی نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے عوام کو صرف دھوکہ دیا. آج جب 2.7 لاکھ آبادی پر مشتمل علاقہ کو خطہ کا درجہ دیا جاتا ھے اور 13 لاکھ پر مشتمل عوام کو نظر انداز کیا جانا باعث افسوس و قابل مذمت ھے قمر چوھدری نے بولتے ھوئے کہاچودھری نے بولتے ھوئے کہا کہ گورنر انتظامیہ خطہ میں افلاس، بے روزگاری، پسماندگی، سرحدوں کی کشیدگی اور عوام کی پریشانیوں کو مد نظر رکھتے ھوئے جلد از جلد خطہ کو صوبہ کا درجہ دے یا عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنے کیلئے تیار ھوجائے مزید رنج و نا انصافیاں اب سہی نہیں جا سکتی۔ ادھر پی ڈی پی کے سینئرلیڈر اور سابق وزیر چودھری زلفقار نے بھی پُر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ خط پیر پنچال کے لوگوں سے گورنر انتظامیہ نے نا انصافی کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ پیر پنچال کو ہر سطح پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ اگر پیر پنچال کو فوری طورپر صوبہ کا درجہ نہیں دیا گیا تو لوگ سڑکوں پر آنے سے بھی گریز نہیں کرئینگے۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں خطوں کو ہر حکومت نے ہر طرح سے نظر انداز کیا ہے اور جب ہم ہل ڈولپمنٹ کی مانگ کرتے ہیں تو ہمیں اس سے بھی محروم رکھا جاتا ہے جو واضح طور پر دونوں خطوں کی عوام کے ساتھ نا انصافی ہے انہوں نے مزید کہا کہ آج تک کی سابقہ حکومتوں اور گورنر انتظامیہ نے خطہ پیر پنچال اور چناب کو نظر انداز کر کے اس بات کو صاف کر دیا ہے کہ وہ ان علاقہ جات میں ترقی کے خواہاں نہیں ہیں اور انہیںترقی کے نقشے پر نہیں لانا ھے جسے اب برداشت نہیں کیا جاسکتا ھے وقت آچکا ھے اور صوبہ کا درجہ لیکر ہی دم لیا جائے گا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں