سرینگر جموں شاہراہ مسلسل بند سڑک پر کئی ہزار مال اور مسافر بردار گاڑیاں درماندہ وادی میں اشیائے ضروریہ کی قلت اور مہنگائی ٹنل کے قریب برفانی تودے کے نیچے دبی ایک اور سپاہی کی لاش برآمد سوپور میں معصوم بچہ چھت سے گرنے والی برف کے نیچے دب کر لقمہ اجل بن گیا

سرینگر/ یوپی آئی/سی این آئی / سرینگرجموں شاہراہ رام بن اور رام سو کے درمیان بھاری پسیوں اور پتھروں کے گر آنے کی وجہ سے سنیچر کو چوتھے روز بھی بند رہی ۔اگر چہ موسم میں بہتری کے ساتھ ہی کئی مقامات پر بحالی کا کام شروع کیا گیا لیکن شاہراہ کی بحالی کے امکانات اتوار تک بھی ممکن دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ادھر کشمیر میں مسلسل تیسرے روز بھی ٹرین سروس معطل رہی جس کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔جموں سرینگر شاہراہ بند ہونے سے ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے سبزیوں کی قیمتوں میں دو سو فیصد کا اضافہ کیا ہے جبکہ گوشت چھ سو روپیہ فی کلو اور/جاری صفحہ نمبر۱۱پر
 مرغ 180روپیہ فی کلو کے حساب سے فروخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور متعلقہ محکمہ کے اہلکار مبینہ ملی بھگت کے باعث تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ سرینگر۔جموں شاہراہ سنیچر کوحالیہ برفباری کے بعد چوتھے روز بھی گاڑیوں کی نقل و حمل کیلئے بند ہے جس کے نتیجے میں اہل وادی کے مصائب و مشکلات لگاتار جاری ہیں۔مذکورہ شاہراہ کوپانچ روز قبل یکطرفہ ٹریفک کیلئے کھولا گیا تھا تاہم شاہراہ پر برفباری اور پسیاں گر آنے کے بعد اس کو پھر بند کیا گیا۔حکام کے مطابق شاہراہ کو ڈگڈول،پنتھال، بیٹری چشمہ اور انوکھی فالز علاقوں میں صاف کیا جارہا ہے جہاں پسیاں گر آنے سے شاہراہ ناقابل آمد ورفت بند ہوگئی ہے۔حکام نے کہا کہ شاہراہ پر کم و بیش ایسی 2500مال بردار گاڑیاں بھی درماندہ ہیں جن میں وادی کیلئے ضروری اشیا ہیں۔شاہراہ پرگذشتہ دو ہفتوں کے زیادہ عرصہ سے ٹریفک کی آوا جاہی میںرکاوٹیں درپیش ہیں جس کی وجہ سے وادی کشمیر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ٹریفک حکام نے بتایا کہ جمعہ کی صبح سے رام بن کے سیری ، کیلا موڑ، ماروگ ، بیٹری چشمہ اور انوکھی فال کے درمیان ایک درجن سے زائد پسیوں کو صاف کیا گیا اور اس دوران ماروگ کے مقام پر تین بجے ایک اور پسی شاہراہ پر گر آئی۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ ابھی بھی ماروگ ، انوکھی فال ، ڈگڈول ، خونی نالہ ، پنتھیال اور رامسو کے درمیان ایک درجن کے قریب پسیوں، پتھروں اور برفباری کی وجہ سے بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانہال اور جواہر ٹنل کے درمیان بھاری برف کو بھی صاف کرنے کا کام جمعہ کی صبح سے ہی شروع کیا گیا اور شام تک بانہال اور شیطانی نالہ کے درمیان برف کو ہٹایا گیا۔ رامسو ، شیر بی بی اور بانہال کے درمیان سڑک ابھی بھی برف کی وجہ سے ناقابل آمدورفت ہے۔ ادھرکشمیر میں سنیچر کو ٹرین سروس مسلسل تیسرے روز معطل رہی۔ذرائع کے مطابق یہ سروس گذشتہ دو روز کے دوران بھاری برفباری کی وجہ سے بند رکھی گئی تھی جبکہ آج وادی میں ہڑتال کے پیش نظر اس کو معطل کردیا گیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق اْنہیں گذشتہ رات دیر گئے ٹرین سروس حفاظتی اقدام کے تحت بند رکھنے کی ایڈوائزری مل گئی تھی۔دریں اثنا جموں سرینگر شاہراہ بند ہونے کے نتیجے میں منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے وارے نیارے ہے۔ نمائندے نے بتایا کہ وادی کے کسی بھی علاقے میں سبزی دستیاب ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگ اب دالیں کھانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ادھربچاو عملے نے سنیچر کے روز برفانی تودے کے نیچے لاپتہ ہونے والے ایک اور پولیس اہلکار کی لاش برآمد کی ہے۔ کانسٹیبل کی لاش برآمد ہونے کے بعد اس تودے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد 8ہو گئی جن میں 6پولیس اہلکار اور دو قیدی شامل ہیں۔پولیس ترجمان کے مطابق سبھی اہلکاروں کی نعشیں برآمد کی گئی ہے۔ ادھر سوپور میں ایک سات سالہ بچہ اْس وقت لقمہ اجل بن گیا جب وہ مکان کی چھت سے اچانک گرنے والی برف کی زد میں آگیا۔ تلاشی اوربچائو عملے نے سنیچر کو سرینگر۔جموں شاہراہ پر جواہر ٹنل کے نزدیک ،جہاں گذشتہ روز برفبانی تودے نے پوری پولیس پوسٹ کو اپنی زد میں لایا تھا، ملبے سے ایک پولیس اہلکار کی لاش بر آمد کی۔کانسٹیبل پرویز احمد کی لاش بر آمد ہونے کے بعد اس تودے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد8ہوگئی ہے۔دس افراد گذشتہ روز تودہ گر آنے کے بعد لاپتہ ہوئے تھے جن میں سے دو کو زندہ نکالا گیا جبکہ آٹھ کو مردہ حالت میں نکالا گیا۔سات لاشیں گذشتہ روز ہی نکالی گئی تھیں۔حالیہ برفباری کے نتیجے میں اب تک کئی افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ پولیس ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ روز پولیس پوسٹ جواہر ٹنل پر ایک بھاری برکم برفانی تودا گر آیا جس کے نتیجے میں 20اہلکار اس میں پھنس کر رہ گئے۔ چنانچہ اطلاع ملتے ہی پولیس اور سی آر پی ایف نے فوری طورپر بچاو کارروائی شروع کی جس دوران جمعرات کی شام ہی دس پولیس اہلکاروں کو محفوظ مقامات کی اور منتقل کیا گیا۔ خراب موسم کے باعث بچاو ٹیم میں شامل اہلکاروں کو جائے وقوع تک پہنچنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کرناپڑا۔ جمعہ کے روز پولیس ، ایس ڈی آر ایف ، سی آر پی ایف ، آرمی اور مقامی لوگوں نے دوبار ہ بچاو کارروائی شروع کی جس دوران تین اہلکاروں جن کی شناخت ایس پی او غلام نبی میر بیلٹ نمبر 505/Kولد علی محمد میر ساکنہ کولگام ، ایس پی محمد خلیل بیلٹ نمبر 315/Kولد اسد ا ﷲ پڈر ساکنہ ائمو ویری ناگ ، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل محمد مقبول بیلٹ نمبر 346/KGmساکنہ بانڈی پورہ کے بطور ہوئی ہے کو زندہ نکال کر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر اُن کی حالت مستحکم بتائی جارہی ہے۔ ریسکو ٹیم نے برف میں دبے پانچ اہلکاروں کی نعشیں برآمد کی ہیں جن کی شناخت کانسٹیبل ارشید گل بیلٹ نمبر 1000/kgmساکنہ تولی نوپورہ کولگام ، ہیڈ کانسٹیبل مظفر احمد بیلٹ نمبر 125/kgmساکنہ منوارڈ اننت ناگ، کانسٹیبل فردوس احمد بٹ بیلٹ نمبر 181﴿ڈرائیور فائر اینڈ ایمرجنسی سروس ﴾ولد گل محمد ساکنہ وائی کے پورہ قاضی گنڈ، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل فیاض احمد پرے بیلٹ نمبر 1571﴿فائر اینڈ ایمرجنسی سروس ﴾ولد اسد ا ﷲ پرے ساکنہ چند دیان قاضی گنڈ، سلیکشن گریڈ کانسٹیبل شبنم یوسف گنائی بیلٹ نمبر 622/IRPولد محمد یوسف گنائی ساکنہ ہلر کوکر ناگ کے بطور ہوئی ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ پولیس پوسٹ میں مقید دو قیدی بھی اس حادثے میں ہلاک ہوئے ہیںاور اس سلسلے میں قانونی لوازمات پورے کئے جار ہے ہیں۔ادھر سنیچر کے روز لاپتہ ایک اور پولیس اہلکار جس کی شناخت سلیکشن گریڈ کانسٹیبل پرویز احمد ساکنہ گاندربل کے بطور ہوئی کی نعش برآمد کی گئی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق ہم اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے بلنددرجات اور اُن کے اہلِ خانہ کو صبر و جمیل عطا کرنے کی دعاکرتے ہیں۔ ہم مقامی لوگوں کی اس جرائت کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوںنے ریسکو آپریشن میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ ادھر شمالی کشمیر کے سوپور علاقے میں ایک سات سالہ بچہ اْس وقت لقمہ اجل بن گیا جب وہ مکان کی چھت سے اچانک گرنے والی برف کی زد میں آگیا۔یہ واقعہ سوپور کے چری ہار نامی گائوں میں گذشتہ شام کوپیش آیا۔ذرائع کے مطابق عرفان احمد خان ولد غلام حسن خان بھاری برف کے نیچے آکر موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ ایس ایس پی سوپور نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سوپور میں گزشتہ شام حادثاتی طورپر رہائشی مکان کی چھت سے برف نیچے گری جس کے نتیجے میں ایک بچہ اُس کے نیچے دب گیا جس کے نتیجے میں اُس کی موقعے پر ہی موت واقع ہوئی ۔ ایس ایس پی کے مطابق اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں