افضل گورو کی چھٹی برسی مزاحمتی قیادت کی کال پرمکمل ہڑتال، بیشتر مزاحمتی قائدین و کارکنان خانہ و تھانہ نظر بند،شہر کے حساس مقامات سیل

سرینگر/ کے این ایس / جے کے این ایس/ اے پی آئی /مرحوم محمد افضل گوروکی چھٹی برسی کے موقعے پر مزاحمتی قیادت کی ہڑتالی کال پر وادی کے شمال و جنوب میں مکمل بند رہا جس دوران عوامی، تجارتی، کاروباری، تعلیمی اور غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہے جبکہ اس دوران سرکاری دفاتر میں بھی ملازمین کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔ ادھر عوام کی طرف سے ممکنہ احتجاجی مارچ اور جلوس کو ناممکن بنانے کی خاطر انتظامیہ نے شہر سرینگر سمیت شمالی کشمیر کے حساس علاقوں میں بندشیں نافذ کرتے ہوئے یہاں فورسز کے اضافی دستوں کو تعینات کردیا تھا۔ اھر شہر سرینگر کے تاریخی لعل چوک کو پولیس اور دیگر فورسز ایجنسیوں نے سنیچر کی صبح سے ہی پوری طرح سے اپنی تحویل میں لیتے ہوئے یہاں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے راہ گیروں کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی نقل و حمل پر بھی مکمل پابندی عائد کی تھی۔ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی9اور 11فروری کوہڑتالی کال کے پہلے دن انتظامیہ نے کسی بھی طرح کی امکانی گڑ بڑ یا احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے ناکہ بندیاں ، قدغنیں اور بندشیں جاری رہی جس /جاری صفحہ نمبر۱۱پر
کی وجہ سے عام زندگی پٹری سے نیچے اتر گئی ۔ شہر خاص میں فورسز اور پولیس اہلکاروں کے گشت بھی جاری رہے جبکہ سڑکوں کو بیشتر جگہوں پر خار دار تار سے بند کیا گیا تھا اور بکتر بند گاڑیاں سڑکوں کے بیچوں بیچ رکھی گئی تھی ۔ کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرے اور جلوس کو روکنے کیلئے اضافی فورسز و پولیس اہلکارلعل چوک سمیت پائین شہر کی حساس گلیوں ، سڑکوں اور کوچوں میں تعینات رہے ۔ادھر شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ میں بھی انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کے لیے فورسز کے اضافی دستوںکو گزشتہ شام سے ہی تعینات کیا تھا جس کے نتیجے میں یہاںلوگوں کے قلب وذہن میں خوف اور ڈر کا ماحول پیدا ہوا۔ تاہم علاقے میں شام دیر گئے تک کوئی ناخوشگوار وااقعہ رونما نہیں ہوا اور حالات پرامن رہے۔خیال رہے 2011 میں پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے مبینہ مجرم محمد افضل گورو جنہیں 9 فروری 2013 کو دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی، کی چھٹی برسی کے موقع پر سنیچر کو وادی کشمیر میں مزاحمتی قیادت کی کال پر مکمل ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ افضل گورو کو تہاڑ جیل میں تختہ دار پر لٹکانے کے بعد وہیں دفن کیا گیا تھا۔ادھر انتظامیہ نے مزاحمتی قیادت اور دیگر آزادی پسند جماعتوں کے سربراہوں اور کارکنوں کو قبل از وقت ہی احتجاجی ریلی کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے تھانہ یا خانہ نظربند کردیا ہے۔شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور جو کہ افضل گورو کا آبائی قصبہ ہے، میں بھی کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر وادی بھر میں ریل سروس معطل کردی گئی ہے۔ ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا ‘جی ہاں، ہم نے ریل سروس کو سیکورٹی وجوہات کی بنائ پر معطل کیا ہے’۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان سنیچروارکو کوئی بھی ریل گاڑی نہیں چلے گی۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا ‘ریل سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ ریاستی پولیس کی جانب سے اس حوالے سے ہدایات ملنے کے بعد لیا گیا ہے’۔ ہڑتالی کال کے باعث سری نگر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔سری نگر کے پائین شہر اور سیول لائنز کے کچھ علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں جن کی وجہ سے وہاں تمام طرح کی سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ پولیس نے بتایا کہ پائین شہر اور سیول لائنز کے کچھ علاقوں میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے اضافی دستوںکو تعینات کیا گیا تھا ۔پابندی والے بیشتر علاقوں میں سڑکوں کو خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا ہے۔پائین شہر کے سبھی علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی ہے۔ پائین شہر کے نوہٹہ علاقہ میں واقع تاریخی جامع مسجد جہاں حریت کانفرنس ﴿ع﴾ چیئرمین میرواعظ ہر جمعہ کو اپنا معمول کا خطبہ دیتے ہیں، کے ارد گرد بھی سخت سیکورٹی نافذ کی گئی تھی۔ادھر پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی کے باعث سری نگر کے بیشتر سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج بری طرح متاثر رہا۔ ادھر جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ، پلوامہ اور شوپیان میں بھی ہڑتالی کال کاکافی اثر دیکھنے کو ملا جس دوران یہاں عوامی ، تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں جبکہ سڑکوں پر بھی اکا دکاگاڑیاں ہی نظر آئیں۔ اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے اس اور دیگر قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں بھی ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج رہے۔ جنوبی کشمیر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں