سرینگر -جموں شاہراہ پانچویں روز بھی بند، وادی کشمیر میں اشیائے ضروریہ غائب، گلی سڑی سبزیاں سونے کے بھائو بک رہی ہیں، پیٹرول اور ڈیزل کی بھی شدید قلت

سرینگر/ جے کے این ایس / سرینگر جموں شاہراہ رام بن اور رام سو کے درمیان بھاری پسیوں اور پتھروں کے گر آنے کی وجہ سے اتوار کو پانچویں روز بھی بند رہی ۔اگر چہ موسم میں بہتری کے ساتھ ہی کئی مقامات پر بحالی کا کام شروع کیا گیا لیکن شاہراہ کی بحالی کے امکانات سوموار تک بھی ممکن دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔شاہراہ بند رہنے کے نتیجے میں پوری وادی میں سنگین صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور گلی سڑی سبزیاں سونے کے بائو بک رہی ہے۔ سرینگر جموں شاہراہ پانچویں روز بھی گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بند رہی جس کی وجہ سے شاہراہ پر درماندہ مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔ رام بن اور بانہال میں درماندہ مسافروں نے انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرئے کرتے ہوئے بتایا کہ پچھلے پانچ روز سے وہ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں تاہم حکام کی جانب سے انہیں کھانے پینے کی اشیائ فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔ مسافروں کے مطابق/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 جموں میں ہوٹل اور ڈھابے چلانے والوں نے کھانے پینے کی اشیائ میں دو سوفیصدی کا اضافہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں درماندہ مسافروں کو فاقہ کشی پر نوبت پہنچ چکی ہے۔ سنیچر کی صبح سے رام بن،بانہال اور جواہر ٹنل کے درمیان بھاری پسیوں اور برفباری کو صاف کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ٹریفک حکام کے مطابق جمعہ کی صبح سے رام بن کے سیری ، کیلا موڑ، ماروگ ، بیٹری چشمہ اور انوکھی فال کے درمیان ایک درجن سے زائد پسیوں کو صاف کیا گیا اور اس دوران ماروگ کے مقام پر تین بجے ایک اور پسی شاہراہ پر گر آئی۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ ابھی بھی ماروگ ، انوکھی فال ، ڈگڈول ، خونی نالہ ، پنتھیال اور رامسو کے درمیان ایک درجن کے قریب پسیوں، پتھروں اور برفباری کی وجہ سے بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانہال اور جواہر ٹنل کے درمیان بھاری برف کو بھی صاف کرنے کا کام جمعہ کی صبح سے ہی شروع کیا گیا اور شام تک بانہال اور شیطانی نالہ کے درمیان برف کو ہٹایا گیا۔ رامسو ، شیر بی بی اور بانہال کے درمیان سڑک ابھی بھی برف کی وجہ سے ناقابل آمدورفت ہے۔ ادھر پوری وادی میں سبزی فروشوں ،نانوائیوں ،دودھ فروشوں ،قصابوں ،مرغ فروشوں اور کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرنے والے دکانداروں نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا ہوا ہے لوگوں کو لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا ہے برفباری کی آڑ میں لاقانونیت عروج پر پہنچ گئی ہے ۔ رسوئی گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے ،کروسین اوئل کئی بھی دستیاب نہیں ،سڑکوں پر برف نہ ہٹانے کی وجہ سے راشن گھاٹوں میں غذائی اجناس کا کوئی سٹاک موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے شہر سرینگر اور دوسرے قصبوں کے لوگوں کو غذائی اجناس حاصل کرنے میں شدید مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ نمائندے کے مطابق دور دراز علاقوں میں حالت اس سے بدتر ہے کئی دنوں سے پہاڑی علاقوں کے رہنے والوں کو غذائی اجناس کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور لوگ فاقہ کشی کے شکار ہو رہے ہیں ۔ راشن گھاٹوں پر غذائی اجناس دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے غلا داروں نے بھی وادی میں قیمتیں کافی بڑھا دی ہیں اور چاول ،آٹا ،منہ مانگی قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے ۔ شدید برفباری کے باعث وادی میں منافع خوروں ،ذخیرہ اندوزوں کی کاروائیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور متعلقہ حکام کی خاموشی پر لوگوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے ضمن میں بار بار سرکار دعوئے اور وعدئے کر رہی ہیں تاہم عملی اقدامات اٹھانے کے ضمن میں متعلقہ حکام نے کبھی بھی سنجیدگی کا مظاہر ہ نہیں کیا جس کی وجہ سے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو اپنی کاروائیاں جاری رکھنے کا بار بار موقع مل رہا ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے اور موجودہ سنگین صورتحال میں متعلقہ محکمہ کو کارگر اقدامات اٹھانے چاہئے تاکہ لوگوں کو کسی بھی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں