موجودہ تحریک شہدائ کی قربانیوںسے مقدس بن گئی ہے:گیلانی، کہا نوجوان قوم کے کل کیلئے اپنے آج کو قربان کررہے ہیں

سرینگر/چیرمین حریت سید علی گیلانی نے معرکہ کولگام میں 5 مجاہدین کی شہادت پر انہیں شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ہمارے جوانوں کو بڑی بے دردی اور بے رحمی سے قتل نہ کیا جارہا ہو۔ اپنے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کی جنگ لڑنے والوں کو دہشت گرد قرار دے کر غاصب قوتیں ریاست کے چپہ چپہ کو لالہ زار بنارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خونین تحریک ان بے مثال قربانیوں سے بہت ہی مقدس بن چکی ہے اورہم میں سے کوئی بھی دانستہ یا نادانستہ طور اس کو سبوتاژ کرنے کی معمولی لغزش کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا۔ حریت راہنما نے کہا کہ بھارت کے ارباب اقتدار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ طاقت کے استعمال سے آج تک کسی جذبے کو زیر نہیں کیا جاسکا ہے اور نا ہی قتل وغارت گری کے لامتناہی سلسلہ غاصب طاقتوں کو دوام بخشنے میں کبھی کامیاب ہوا ہے۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ زندہ قومیں ان سرفروشوں کو کبھی بھی اور کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کرتی ہیں، جو ان کے ’’کل‘‘ کے لیے اپنے ’’آج‘‘ کو قربان کرتے ہیں۔ وہ صدیوں تک یاد کئے جاتے ہیں اور وہ دوسروں کے لیے سرچشمۂ قوت کا کام کرتے رہتے ہیں۔ آزادی پسند راہنما نے مزید کہا کہ شہدائ کو خراج پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس مشن کے ساتھ وفا کی جائے اور اس کو ہر صورت میں آگے بڑھایا جائے، جس کے لیے انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ ہماری قوم نے اپنے حُجم سے بڑھ کر قربانیاں پیش کی ہیں، البتہ ان قربانیوں کی حفاظت زیادہ اہم اور مقدس فریضہ ہے، جس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس دوران گیلانی صاحب نے محمد افضل گورو کی شہادت کے 6 سال مکمل ہونے کے موقعے پر کرفیو جیسی پابندیاں عائد کرنے، آزادی پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے، دعائیہ مجالس پر پابندی لگانے اور تحریک آزادی سے وابستہ درجنوں لیڈروں اور کارکنوں کو گھروں اور پولیس تھانوں میںنظربند کرنے . کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پابندیاں ہمارے سرفروشوں کی توہین کرنے کے مترادف کارروائی ہے اور حکومت اس طرح کی پالیسی پر عمل کرکے ایک بڑے طوفان کو دعوت دے رہی ہے۔ آزادی پسند راہنما نے شہید مقبول بٹ اور شہید افضل گورو کی باقیات واپس لوٹانے کی مانگ دہراتے ہوئے کہا کہ یہ خالصتاً ایک انسانی مسئلہ ہے اور دہلی والوں کو اپنی سنگ دلی ترک کرکے ان کی باقیات واپس کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ شہید محمد افضل گورو کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے گھر پر ایک تعزیتی مجلس کا اہتمام کیا گیا تھا، البتہ حکومت نے پورے علاقہ کو سیل کرکے کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی اور سینکڑوں آزادی پسند لیڈروں اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں