خطہ پیر پنچال اُبل پڑا، صوبہ کا درجہ دینے کی  مانگ کو لے کر احتجاجی مظاہرے اور دھرنا

سرینگر/ یو پی آئی /لداخ کو صوبہ کا درجہ ملنے کے بعد خطہ پیر پنچال اُبل پڑا ۔دو سابق ممبران اسمبلی کی قیادت میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے گورنر انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرئے کئے اور خط پیر پنچال کو فوری طورپر صوبہ کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ سابق ریاستی وزیر چودھری زلفقار علی اور سابق ممبر اسملی راجوری قمر حسین چودھری کی سربراہی میں راجوری میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرئے کئے اور گورنر انتظامیہ سے فوری طورپر خط پیر پنچال کو صوبہ کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ۔ چودھری/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 زلفقار نے لوگوں کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جب تک نہ پیر پنچال کو صوبہ کا درجہ نہیں دیا جاتا تب تک احتجاجی مظاہرئے جاری رہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ لداخ کی آبادی صرف تین لاکھ افراد پر مشتمل ہیں جنہیں صوبہ کا درجہ تو دیا تاہم خط پیر پنچال جو کہ بارہ لاکھ افراد پر مشتمل علاقے کو گورنر انتظامیہ نے نظر انداز کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پیر پنچال کے لوگوں نے ہمیشہ جمہوری اداروں کو مضبوط کیا، الیکشنوں کے دوران لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں تاہم اس کے باوجود بھی گورنر انتظامیہ نے پیر پنچال کے بجائے لداخ کو صوبہ کا درجہ دیا جو ہماری ساتھ بہت بڑی نا انصافی ہے اور اس کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ گورنر انتظامیہ نے آبادی کے ایک بڑے حصے کو پس پشت ڈالا اور لداخ کو صوبہ کا درجہ دینے کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہے۔ اگر چہ ہم لداخ کو صوبہ کا درجہ دینے کے خلاف نہیں تاہم پیر پنچال کو نظر انداز کرنے پر ہم کسی بھی صورت میں چپ نہیں رہ سکتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں