شاہراہ بند رہنے سے وادی میں بحرانی صورتحال حیات بخش اور اہم ادویات کی شدید قلت ، ساگ سبزیاں نایاب، پیٹرول اور ڈیزل کی راشننگ شروع ، آج شاہراہ پر ٹریفک بحالی کی اُمید،ڈویژنل کمشنر جموں

سرینگر/ یو پی آئی / کے این ایس /حالیہ بھاری برفباری کے بعد سرینگر۔ جموں شاہراہ سوموار کو مسلسل چھٹے روز بند رہی جبکہ وادی میں ضروری اشیا کی شدید قلت نے بحرانی کیفیت اختیار کی ہے۔محکمہ ٹریفک کا کہنا ہے کہ اگر چہ شاہراہ سے برف ہٹائی گئی ہے لیکن شاہراہ پر کئی مقامات پر بھاری پسیاں گر آئی ہیں جنہیں صاف کرنے سے/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 پہلے ٹریفک چلانے کی اجازت نہیں د ی جاسکتی ہے۔کم و بیش3000گاڑیاں شاہراہ پر گذشہ چھ روز سے درماندہ پڑی ہیں۔گاڑیوں کے درماندہ ہونے کی وجہ سے وادی کشمیر میں کھانے پینے کی چیزوں کی کمی نے اب بحرانی صورت اختیار کی ہے۔وادی کو پیٹرول اور اس سے بننے والی چیزوں کی بھی شدید کمی لاحق ہوگئی ہے۔جموں سرینگر شاہراہ پر مسلسل پسیاں اور چٹانیں گرآنے سے سڑک کی مرمت و تجدید کے کام میں رکاوٹیں آرہی ہیں۔ نمائندے کے مطابق سوموار کو چھٹے روز بھی تین سو کلومیٹر جموں سرینگر شاہراہ بند رہی جس کے نتیجے میں لوگوں کا سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔ اتوار بعد دوپہر تین بجے کے قریب رام بن کے ماروگ علاقے میں جموں سرینگر شاہراہ تازہ پسیوں کی وجہ سے ٹریفک کیلئے چھٹے روز بھی بند رہی اور شاہراہ کی بحالی کے امکانات منگل کی شام تک بھی ممکن دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ماروگ کی بھاری پسی کے گرنے سے چند منٹ پہلے شان پیلس رام بن سے دو سو کے قریب چھوڑی گئی درماندہ مسافر گاڑیوں پر مشتمل ٹریفک ابھی اس پسی سے ایک سے دو کلومیٹر کی دوری پر ہی واقع تھا کہ ماروگ کے مقام بڑی پہاڑی بھاری ملبے کے ساتھ شاہراہ پر گر ائی اور ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ ماروگ کے مقام پرگر ائی اس پسی نے سڑک کے کم از کم دو سو میٹر کے حصے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ شاہراہ پر موجود پسیوں اور چٹانوں کو صاف کرنے کیلئے اگر چہ بیکن عملہ کام میں لگا ہوا ہے تاہم تازہ پسیاں گر آنے کے نتیجے میں ملازمین کو بھی مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔ ادھر شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے دو روز پہلے جموں سے رام بن پہنچی دو سو کے قریب مسافر گاڑیوں میں سوار بیشتر مسافروں نے پیدل سفر شروع کیا ہے۔ کئی مسافروں نے فون پر بتایا کہ گاڑیوں سے اپنا سفر جاری رکھنے کی امیدیں ختم ہونے کے بعد انہوں نے ماروگ کی پسی کو پار کرنے کیلئے نیچے بہہ رہے دریائے چناب کے کنارے پیدل سفر شروع کیا جو سوموار شام تک جاری تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماروگ کی پسی سے بانہال تک پہنچنے کیلئے وہاں موجود چھوٹی مسافر گاڑی والے مسافروں سے دو دو سو روپئے کی رقم کا تقاضہ کر رہے تھے اور گاڑیوں کی کمی کے پیش نظر کئی مسافر پیدل ہی بانہال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ کی حالت متعدد مقامات پر خراب ہے اور پتھر گر رہے ہیں جس کی وجہ سے مجبور مسافر سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔ اس دوران رام بن کیو آر ٹی کے رضاکاورں نے پولیس کے ساتھ مل کر ضلع بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے ایک بچے کی میت کو پنتھیال کی پسی کو پار کرنے میں مجبوروالدین کی مدد کی۔ اس بچے کی موت جموں میں واقع ہوئی ہے اور شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے لاش لیکر رام بن سے آگے بڑھنا والدین کیلئے ناممکن تھا اور یہ ناممکن سفر رضاکاروں کی مدد سے ممکن ہوسکا ہے۔ ٹریفک حکام کے مطابق رام بن اور بانہال کے درمیان پنتھال کی پسی کو چھو ڑکر شاہراہ کو قابل آمدورفت بنا دیا گیا ہے۔ حکام کا مزید کہنا تھا کہ شاہراہ کو ٹریفک کی آمدورفت کے قابل بنانے کی خاطر ملازمین چوبیس گھنٹے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بیٹری چشمہ ، ڈگڈول اور خونی نالہ کے درمیان پسیوں کو صاف کیا گیا جبکہ پنتھیال کے مقام کام جاری تھا اور اتوار کی سہہ پہر تک ٹریفک کی بحالی کے روشن امکانات تھے لیکن ماروگ کی تازہ پسی نے تمام امیدوں کو ختم کر دیا ہے۔ادھر جموں سرینگر شاہراہ بند ہونے کے نتیجے میں لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے جبکہ وادی میں ضروریات زندگی کی چیزیں غائب ہونے کے باعث بحرانی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پیٹرول پمپوں پر ڈیزل اور پیٹرول ختم ہو گیا ہے اور اگر ایک دو روز کے اندر اندر شاہراہ کو قابلِ آمدورفت نہیں بنا گیا تاہم وادی کی سڑکوں پر ٹریفک بھی غائب ہو جائے گا ۔ وادی میں منافع خوروں ،ذخیرہ اندوزوں کی کاروائیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں اور متعلقہ حکام کی خاموشی پر لوگوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے ضمن میں بار بار سرکار دعوئے اور وعدئے کر رہی ہیں تاہم عملی اقدامات اٹھانے کے ضمن میں متعلقہ حکام نے کبھی بھی سنجیدگی کا مظاہر ہ نہیں کیا جس کی وجہ سے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو اپنی کاروائیاں جاری رکھنے کا بار بار موقع مل رہا ہے ۔عوامی حلقوں کے مطابق قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے اور موجودہ سنگین صورتحال میں متعلقہ محکمہ کو کارگر اقدامات اٹھانے چاہئے تاکہ لوگوں کو کسی بھی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ اس دوران صوبائی کشمیر جموں سنجوورما نے کے این ایس کو بتایا کہ سڑک پر جنگی بنیادوں پر کام جاری ہے جبکہ آئی جی پی جموں اور آئی پی ٹریفک کے علاوہ دیگر اعلیٰ افسران سڑک کے بحالی کام کی از خود نگرانی کر رہے ہیں ۔انہوں نے سوموار کے روز کشمیر نیوز سروس کے این ایس کو بتایا کہ سڑک کوچند گھنٹے اور لگ سکتے ہیں س کے بعد سڑک کو سوموار کی شام یا منگل صبح گاڑیوں آمد رفت کے لئے بحال کیاجائے گا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں