یوم مقبول بٹ پر وادی میں ہڑتال مشترکہ قیادت کی اپیل پر لالچوک میں نکالے گئے جلوس پر پولیس کا دھاوا، متعدد حریت رہنما اور کارکن گرفتار، مزاحمتی قیادت کی طرف سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام میمورنڈم

سرینگر/ کے این ایس /مزاحمتی سرخیل’ محمد مقبول بٹ‘ کی 35ویں برسی کے موقعے پر مزاحمتی قیادت کی ہڑتالی کال پر وادی کے شمال و جنوب میں مکمل بند رہا جس دوران عوامی، تجارتی، کاروباری، تعلیمی اور غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہے جبکہ اس دوران سرکاری دفاتر میں بھی ملازمین کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔ ادھرکال کے مطابق عوام کی طرف سے لاچوک چلوممکنہ احتجاجی مارچ اور جلوس کو ناممکن بنانے کی خاطر انتظامیہ نے لاچوک شہر سرینگر سمیت شمالی کشمیر کے حساس علاقوں/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 میں بندشیں نافذ کرتے ہوئے یہاں فورسز کے اضافی دستوں کو تعینات کردیا تھا۔ جبکہ شہر سرینگر کے تاریخی لعل چوک کو پولیس اور دیگر فورسز ایجنسیوں نے سنیچر کی صبح سے ہی پوری طرح سے اپنی تحویل میں لیتے ہوئے یہاں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے راہ گیروں کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی نقل و حمل پر بھی مکمل پابندی عائد کی تھی۔ ادھر مرحوم کے آبائی علاقے ترہگام کپوارہ میں بھی مکمل ہڑتال کے علاوہ ایک تعزیتی مجلس کا اہتما کیا گیا۔ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتالی کال کے دوسرے دن انتظامیہ نے کسی بھی طرح کی امکانی گڑ بڑ یا احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے ناکہ بندیاں ، قدغنیں اور بندشیں جاری رہی جس کی وجہ سے عام زندگی پٹری سے نیچے اتر گئی ۔ شہر خاص میں فورسز اور پولیس اہلکاروں کے گشت بھی جاری رہے جبکہ سڑکوں کو بیشتر جگہوں پر خار دار تار سے بند کیا گیا تھا اور بکتر بند گاڑیاں سڑکوں کے بیچوں بیچ رکھی گئی تھی ۔ کسی بھی طرح کے احتجاجی مظاہرے اور جلوس کو روکنے کیلئے اضافی فورسز و پولیس اہلکارلعل چوک سمیت پائین شہر کی حساس گلیوں ، سڑکوں اور کوچوں میں تعینات رہے ۔ادھر شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ کے ترہگام جو مرحوم محمد مقبول بٹ آبائی علاقہ بھی ہے میں بھی انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کے لیے فورسز کے اضافی دستوںکو گزشتہ شام سے ہی تعینات کیا تھا جس کے نتیجے میں یہاںلوگوں کے قلب وذہن میں خوف اور ڈر کا ماحول پیدا ہوا۔ادھر وادی کے مختلف ضلع صدر تحصیل مقامات کے علاوہ گائوں دیہات میں بھی مکمل ہڑتال رہی ہے جس دوران تمام بازر بند رہے جبکہ سڑکوں سے ہر قسم کا ٹرانسپوٹ غائب رہا ہے جبکہ سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں ازمین کی حاضری نہ ہونے کے برا برارہی۔ اس دوران وادی میں چلنے والی ٹرین سروس بھی مسلسل چوتھے روز بند رہی ہے جبکہ شمال و جنوبی میں فورسز کے اضافی نفری کو تعینات کیا گیا۔ تاہم کسی بھی علاقے میں شام دیر گئے تک کوئی ناخوشگوار وااقعہ رونما نہیں ہوا اور حالات پرامن رہے خیال رہے محمد مقبول بٹ کو11فروری1985 کو تہاڑ جیل دلی میں تختہ دار پر چڑہا یا گیاہے جہاںہر سال کی طرح امسال بھی مزاحمتی قیادت جس میں سید علی شاہ گیلانی ،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے35ویں برسی کے موقع پر سوموار کو وادی کشمیر میں مزاحمتی قیادت کی کال پر مکمل ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ادھر انتظامیہ نے مزاحمتی قیادت اور دیگر آزادی پسند جماعتوں کے سربراہوں اور کارکنوں کو قبل از وقت ہی احتجاجی ریلی کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے تھانہ یا خانہ نظربند کردیا ہے۔جن میں سید علی شاہ گیلانی ہلال احمد وار ۔میرواعظ عمر فاروق ،محمد یاسین ملک کو تھانہ یا خانہ نظر بند کیا گیا۔ادھر متعدد کارکنان جن میں سید امتیاز حیدر،محمد یوسف بٹ،بشیر بڈگامی،گلزار احمد پہلوان،محمد اشرف لایاکے علاوہ درجنوں کارکنا کو بھی تھانی نظر بند کیاگیا۔ ہے۔ ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا ‘جی ہاں، ہم نے ریل سروس کو سیکورٹی وجوہات کی بنائ پر معطل کیا ہے’۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان سنیچروارکو کوئی بھی ریل گاڑی نہیں چلے گی۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا ‘ریل سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ ریاستی پولیس کی جانب سے اس حوالے سے ہدایات ملنے کے بعد لیا گیا ہے’۔ ہڑتالی کال کے باعث سری نگر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔سری نگر کے پائین شہر اور سیول لائنز کے کچھ علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کردی گئی ہیں جن کی وجہ سے وہاں تمام طرح کی سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ پولیس نے بتایا کہ پائین شہر اور سیول لائنز کے کچھ علاقوں میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے اضافی دستوںکو تعینات کیا گیا تھا ۔پابندی والے بیشتر علاقوں میں سڑکوں کو خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا ہے۔پائین شہر کے سبھی علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی ہے ادھر جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ، پلوامہ اور شوپیان میں بھی ہڑتالی کال کاکافی اثر دیکھنے کو ملا جس دوران یہاں عوامی ، تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں جبکہ سڑکوں پر بھی اکا دکاگاڑیاں ہی نظر آئیں۔ اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے اس اور دیگر قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں بھی ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج رہے۔ جنوبی کشمیر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔ادھر۱۱/ فروری یوم مقبول(رح) کے موقع پر آج مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ متعدد قائدین و اراکین کو اسوقت لال چوک سے گرفتار کرلیا گیا جب وہ اولین قائد تحریک آزادی شہید محمد مقبول بٹ اور مجاہد شہید محمد افضل گورو جنہیں بھارتی استعمار نے 11/ فروری 1984÷ئ اور 09/ فروری 2013÷ئ کو بالترتیب تختہ دار پر شہید کیا تھا کی اجساد خاکی اور باقیات کی بھارتی حراست سے خلاصی اور انہیں کشمیریوں کے سپرد کئے جانے کے مطالبے کو لے کر احتجاجی مظاہرہ کررہے تھے۔جن قائدین و اراکین کو اس موقع پر گرفتار کرلیا گیا ہے اُن میںشیخ عبدالرشید ، امتیاز احمد شاہ،پروفیسر جاوید، جاوید احمد بٹ،فیاض احمد لون،عبدالرشید لون، ارشاد عزیز،شاکر احمد آہنگر،مختار احمد اور امتیاز احمد گنائی کے ساتھ ساتھ کئی خواتین جن میں مسلم خواتین مرکز می سربراہ یاسمین راجہ،دلشادہ اختر،افروزہ بانو، نسیمہ اختر قابل ذکر ہیں ۔ اس سے قبل مشترکہ قیادت سے وابستہ قائدین و اراکین زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں جن میں کئی خواتین بھی شامل تھیں کے ہمراہ جے کے ایل ایف کے دفتر مائسمہ کے نزدیک جمع ہوگئے جہاں سے انہوں نے لال چوک کی جانب مارچ شروع کیا۔ پولیس نے اس احتجاج کو روکنے کیلئے لال چوک اور گردونواح کے علاقے سیل کردئے تھے اور خار دار تار اور رکاوٹیں کھڑی کرکے سارے آنے جانے کے راستئ بند کردئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ ہر گلی اور نکڑ پر پولیسی پہرہ بٹھادیا گیا تھا لیکن سخت ترین کرفیو، قدغنوں اور رکاوٹوں ،گرفتاریوں نیز شبانہ و روزانہ چھاپوں اور دوسرے مظالم کے باوجود مشترکہ قیادت سے وابستہ رضاکار لوگوں کی بڑی تعداد کے ہمراہ ہاتھوں میں شہید محمد مقبول بٹ اور شہید محمد افضل گورو کی تصاویر اور پلے کارڈ تھامے نیز شہدائ کی باقیات کے کشمیر واپسی کیلئے فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے جب بڈشاہ چوک کے قریب پہنچے تو وہاں پہلے سے تعینات پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد نے ان کا راستہ روک لیا اور سخت مزاحمت کے بعد کئی قائدین و اراکین کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیا۔گرفتاری سے قبل قائد شیخ عبدالرشید نے میڈیا اور مظاہرین سے خطاب کیا اور کہا کہ تحریک ساز قائد اور نظریہ ساز شہید محمد مقبول(رح) بٹ اور عظیم مجاہد محمد افضل گورو کو غیر قانونی طریقے پر تختہ دار کی سزا دے کر اور پھر ان دونوں کو شایان شان کفن دفن کے حق تک سے محروم کرکے بھارتی حکمرانوں نے ظلم و جبر کی انتہا کردی ہے ۔ شہید محمد مقبول(رح) بٹ کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہید محمد مقبول بٹ اور شہید محمد افضل گورو کی تختہ دار پر شہادت دراصل عدل و انصاف کا خون تھا جو اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے والے بھارت کے اصل چہرے کو عیاں و بیان کرچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان دونوں شہدائ کی باقیات کو کشمیریوں کے حوالے کردینے سے بھارت کا مسلسل انکار دراصل ثابت کرتا ہے کہ بھارت ان شہدائ کی اجسادخاکی تک سے خائف ہے ۔پوری وادی کو کرفیو اور قدغنوں نیز دوسرے مظالم سے تنگ طلب کرنے کی مذمت کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ مشترکہ قیادت کے 9/ اور 11/ فروری کے پروگراموں کو سبوتاژ کرنے کیلئے سری نگر، کپوارہ ، سوپور اور دوسرے مقامات پر کرفیو اور قدغنیں عائد کردی گئیں تھیں ، مزاحمتی قائدین و اراکین کو گرفتار کرنے کی غرض سے ان کے گھروں پر شبانہ چھاپوں کو بھی جاری رکھا گیا جب کہ بزرگ و علیل قائد سید علی شاہ گیلانی بدستور خانہ نظر بند ہیں نیزقائد میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق سمیت کئی دوسرے قائدین کو بھی خانہ نظر بند کرنے کے علاوہ قائد محمد یاسین ملک کوبھی کئی روز قبل سے ہی حراست میں لیا جاچکاہے ۔ اس کے علاوہ دوسرے قائدین و اراکین بشمول محمد اشرف صحرائی، شوکت احمد بخشی، نور محمد کلوال، محمد سلیم ننھا جی،مشتاق اجمل ،بلال احمد صدیقی، محمد یاسین بٹ ،غلام محمد ڈار، بشیر احمد بویا ، گلزار احمد پہلوان ،فیاض احمد،سید امتیاز حیدر، محمد یاسین عطائی، شکیل؛ احمد بٹ ،محمد یوسف بٹ وغیرہ کو بھی خانہ نظر بند یا قید کیا گیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے وابستہ لوگوں میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام رقم کی گئی یادداشت کی کاپیاں بھی تقسیم کی گئیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں