کمسن بچی کے وحشیانہ قتل پر آغا حسن کا شدید ردعمل، سعودی عرب میںدلدوز سانحہ اقلیتوں کے کربناک حالات کا عکاس

سرینگر/انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینٔر حریت رہنما حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے سعودی عربیہ میں درندہ صفت ڈرائیور کے ہاتھوں 6سالہ کمسن بچی کے وحشیانہ قتل پر شدید ردعمل اور گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحہ کو مسلکی اقلیتوں بالخصوص شیعہ آبادی کے خلاف دشمنانہ عزائم اور اس معاملے میں حکومت کی درپردہ پشت پناہی کی روح فرسا کڑی قرار دیا۔ آغا حسن نے کہا کہ درندہ صفت ڈرائیور نے ایک معصوم بچی اور اسکی ماں کو جس بے دردی کے ساتھ قتل کیا اس نے دنیا بھر کے انسانیت نواز حلقوں کو سکتے میں ڈال دیا۔ ایک بچی کے ساتھ جو ابھی سن بلوغ کو بھی نہیں پہنچ چکی تھی جس سے ابھی دین و مسلک کے فہم و ادراک کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، اسے قتل کرنے کے اس دلدوز سانحہ سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہاں کی اقلیتیں مظالم کے کن مراحل سے گزررہی ہوں گی۔ آغا حسن نے کہا کہ دنیا کی انصاف پسند قوموں اور حقوق انسانی کے دعویداروں کو نہ صرف اس سانحہ کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے بلکہ ماتم کناں بھی ہونا چاہیے اورحکومت سے انصاف کے تقاضے پورا کرنے کا زوردار مطالبہ کرنا چاہیے۔ انہوںنے کہا کہ مغربی دنیا اور اکثر مسلمان حکومتیں اپنے مفادات اور مراعات کیلئے قتل عام اور بدترین مظالم پر لب کشائی سے گریز کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اس نوعیت کے روح فرسا مظالم منجی آخر حضرت امام مہدی(ع) کے ظہور کی علامتوں میں سے ہیں اور وہ وقت قریب آرہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا وعدہ جائ َ الحق و زھق الباطل وفا ہوکر رہے گا۔ دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے شہید محمد مقبول بٹ کی برسی کے موقعہ پر تنظیم کے سربراہ اور سینٔر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی اور دیگر مزاحمتی قائدین کی خانہ نظر بندیوں کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قائدین کی خانہ نظر بندیوں سے قوم اپنے سپوتوں کو خراج عقیدت ادا کرنے کے تقاضوں کو صرف نظر نہیں کریں گے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں