وزیر اعظم کی یقین دہانی :ایک سراب

وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی طرف سے بار بار اُن یقین دہانیوں جن میں بتایا گیا ہے کہ کشمیریوں پر اب ملک میں کسی بھی جگہ حملے نہیں ہونگے اور ان کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی ،کے باوجود لکھنومیں دو کشمیریوں پر حملے کئے گئے اور ان کو مار مار کر لہو لہان کردیا گیا۔ اطلاعات میں بتایا گیا کہ پولیس یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی لیکن شر پسند عناصر کےخلاف موقعے پر کو ئی کاروائی نہیں کی گئی۔ اسی طرح 14فروری کے بعد مختلف ریاستوں میں کشمیری طلبہ وطالبات اور دوسرے کشمیری باشندوں پر جب حملے کئے گئے تو اس وقت جس طرح پولیس تماشائی کا رول ادا کرتی رہی اسی طرح آج بھی لکھنو میں ان شرپسند عناصر کےخلاف پولیس نے کوئی کاروائی نہیں کی جنہوں نے دو کشمیری باشندوں پر قاتلانہ حملہ کیا۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ لیزان افسر کہاں گئے جن کو کشمیریوں کو بھرپور تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے بھی دس ریاستی حکومتوں کے نام نوٹس جاری کئے تھے جن میں ان ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اس بات کو ممکن بنائیں کہ کہیں بھی کشمیریوں پر حملے نہ کئے جائیں۔ لیکن لکھنوکے ڈالی گنج علاقے میں ایک خاص دائیں بازو والی پارٹی کے کارکنوں نے دو کشمیری باشندوں پر دن دھاڑے اور بھرے بازار میں قاتلانہ حملہ کیا۔ لیکن بعض راہ گیروں نے بیچ بچائو کرکے کشمیریوں کو اگرچہ بچایا لیکن پولیس نے کوئی خاص کاروائی نہیں کی۔ اس پر جب چاروں طرف سے شور و غل مچ گیا تو پولیس نے دعویٰ کیا کہ اس نے چار افراد کی گرفتاری عمل میں لائی۔ جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا کے مصداق اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ پولیس نے کسی کےخلاف کوئی کاروائی کی کیونکہ جن غنڈوں نے کشمیریوں پر حملے کئے ان کو یوپی کی حکمران جاعت کا آشیر واد حاصل ہے اسی لئے انہوں نے کشمیریوں پر حملے کا ویڈیو وائیرل کیا اور ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ انہوں نے کشمیریوں پر حملے کئے کیونکہ بقول ان کے کشمیری سنگ باز ہیں۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی کس طرح دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ جب ایک ٹی وی رپورٹر نے ان سے کہا کہ سنگ باز تو مٹھی بھر لوگ ہیں پورے کشمیر کو اس کی سزا کیوں دی جائے گی تو انہوں نے کہا کہ انہیں اوپر سے اس طرح کے احکامات صادر ہوئے ہیں ۔ غرض جب تک ایسے عناصر کو حکمرانوں کا آشیر واد حاصل نہیں ہوگا تب تک وہ کس طرح کشمیریوں پر قاتلانہ حملہ کرتے۔ جن لوگوں نے کشمیریوں پر حملے کئے ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کےخلاف پولیس تھانوں میں قتل، ڈاکہ زنی، عصمت دری وغیرہ کے بہت سے کیس درج ہیں اور اس کے باوجود وہ دندناتے پھر رہے ہیں۔ پولیس میں اتنی طاقت یا جرات نہیں کہ ان کےخلاف کاروائی کرتی۔ کشمیر اور خاص کر وادی میں ہزاروں غیر ریاستی باشندے کاروبار ، نوکریوں اور پڑھنے کےلئے آتے ہیں لیکن وہ اس قدر اطمینان اور آرام سے رہ رہے ہیں کہ اپنے اپنے گھروں میں بھی وہ اس قدر آرام سے نہیں ہونگے۔ کشمیری خود سے زیادہ ان کا خیال رکھتے ہیں۔ کشمیری نہ تو دہشت گرد اور نہ ہی سنگ باز ہیں بلکہ کشمیریوں کو بدنام کرنے کےلئے غلط اور بے بنیاد الزامات عاید کئے جاتے ہیں۔ جس علاقے یعنی ڈالی گنج میں کشمیریوں پر حملے کئے گئے وہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی کانسٹی چیونسی ہے اسلئے اس بارے میں ان پر ہی پر بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یو پی میں جتنے بھی کشمیری تاجر طلبہ طالبات ہیں ان کو بھر پور تحفظ فراہم ہو۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں