جموں میں تقسیمی سیاحت اور وادی میں پاکستانی نواز نظرئے کی علمبردار :بی جے پی

سرینگر/ کے این ایس/ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست کی سابق خاتون وزیرا علیٰ محبوبہ مفتی کا بحیثیت وزیر اعلیٰ کے رول کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی ترجمان برگیڈئر انیل گپتا نے محبوبہ مفتی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ موصوفہ نے جموں صوبے میں تقسیمی اور /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
فرقہ پرستانہ سیاست کھیل کر جموں میں ڈوگروں اور گوجروں کے درمیان صدیوں پرانے بھائی چارے کے ماحول کونقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی تاہم وادی کشمیر میں موصوفہ نے جماعت اسلامی کی مکمل تابعداری کرتے ہوئے حریت کانفرنس کے ایجنڈے کو آگے لیجانے میں بھر پور کردار ادا کیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست کی پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی پر مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے اُن کی بحیثیت وزیر اعلیٰ کے رول کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی ترجمان برگیڈئر انیل گپتا کا کہنا ہے کہ محبوبہ مفتی نے جموں اور کشمیر میں اوچھی اور تقسیمی سیاست کھیل کر ایک طرف جموں میں فرقہ وارانہ بھائی چارے کے ماحول کو نقصان پہنچایا جبکہ دوسری طرف وادی کشمیر میں علیحدگی پسندوں کے ایجنڈے کو آگے لیجانے میں انتھک کوشش کی۔ گپتا نے محبوبہ مفتی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ موصوفہ نے جموں صوبے میں تقسیمی اور فرقہ پرستانہ سیاست کھیل کر جموں میں ڈوگروں اور گوجروں کے درمیان صدیوں پرانے بھائی چارے کے ماحول پرنقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی تاہم وادی کشمیر میں موصوفہ نے جماعت اسلامی کی مکمل تابعداری کرتے ہوئے حریت کانفرنس کے ایجنڈے کو آگے لیجانے میں بھر پور کردار ادا کیا۔ بی جے پی ترجمان نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ محبوبہ مفتی کا بحیثیت وزیراعلیٰ کے رول کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہیے کیوں کہ موصوفہ نے اپنے دور اقتدار میں وادی کشمیر میں جماعت اسلامی کے نظریے اور پاکستان نواز حریت کانفرنس کے ایجنڈے کو بڑھاوا دیا۔برگیڈئر انیل گپتا نے پی ڈی پی صدر پر الزام عائد کیا کہ موصوف جس وقت ریاست کی وزیر اعلیٰ کی کرسی پر براجمان تھی تو انہوں نے یہاں پاکستان نواز ایجنڈے کو بھر پور بڑھاوا دیتے ہوئے ملک کی سالمیت اور وفاداری کے ساتھ کھلواڑ کیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ موصوفہ کا بحیثیت وزیراعلیٰ کے دور کی اعلیٰ سطحی تقیقات ہونی چاہیے کیوں کہ ان کی سرگرمیوں سے ملکی مفاد اور سالمیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔گپتا کا کہنا تھا کہ تحقیقات کی بنیاد پر موصوفہ کو غداری کے الزامات میں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ محبوبہ مفتی نے خود متعدد مرتبہ اس بات کا اقرار کیا کہ انہوں نے مرکزی حکومت کو جماعت اسلامی اور حریت کانفرنس جیسے علیحدگی پسند دھڑوں کے خلاف کاررروائی کرنے کی اجازت نہیں دی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں