تشدد اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے :نرملا سیتا رامن

نئی دہلی /پڑوسی ممالک کے ساتھ پُر امن ماحول میں مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کردےا کہ تشدد اور بات چےت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں تاہم مناسب ماحول کو تےار کرنے کیلئے نتےجہ/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 خیز مذاکرات کی امیدا کی جاسکتی ہے ۔ نئی دہلی میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتا رامن کا کہنا ہے کہ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کی حامی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہو یا بنگلہ دیش یا چین ہو سبھی ممالک کو بھارت کی خودمختاری کا احساس کرکے ہی بات چےت کیلئے ماحول سازگار کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت پڑوسی ممالک بشمول بنگلہ دیش اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کا نیا دور شروع کرنا چاہتا ہے جس میں امن کیلئے کوشیش کی جاسکتی ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات اور تشدد ایک ساتھ چل نہیں سکتے اور نہ ہی مذاکرات تشدد آمیز ماحول میں کئے جاسکتے ہیں ۔مرکزی وزیرنے کہا کہ پاکستان کو پہلے سرحدوں پر جاری جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کو روک کر ماحول کو سازگار بناکر پھر بات چےت ہوسکتی ہے ورنہ بھارت اتنا کمزور نہیں کہ وہ دیکھتا رہے ،ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے ہیں مگر تببھی ہم صبر سے کا م لیتے ہیں ۔انہوں نے کہا بھارت ایسے کاموں میں سنجیدہ ہے کہ مسائل کو ایڈریس کیا جائے کیونکہ ہم اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ امن مذاکرات کو جارے رکھنے کیلئے تےار ہیں ۔پڑوسی ممالک سے بھی مثبت ردعمل ملنا لازمی ہے ۔بھارت پاکستان کے ساتھ بھی ایک نئے دور کا آغاز چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کو نہاےت ہی نیک نیتی اور سنجیدگی سے قدم اٹھانے ہونگے مزید ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سورتحال کو بہتر بنانے کیلئے پہلے بات چےت کو راستے کو ہی اپنایا جائے تاکہ صورتحال کو بہتر بناےا جاسکے۔سرامن نے کہا کہ نے کہا کہ بی جے پی کے حوالے سے جو شبیہ پڑوسی ممالک کے ساتھ پیش کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ بھارتی جنتا پارٹی خطے میں صرف امن بحالی کے حق میں ہے اور بھارت میں لوگوں نے اس دلخراش سانحہ پر ماتم کیا اور ایسے واقعات اگررونما ہوتے رہے تو ہم بھی دیکھنے والے نہیں ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں