کانگریس-بائیں بازو کی پارٹیوں کے درمیان تلخیاں گزرے دنوں کاعکس

نئی دہلی/کانگریس صدر راہل گاندھی کے کیرالہ میں وائناڈ سے الیکشن لڑنے کے فیصلے سے کمیونسٹ خیمے میں عجیب بے چینی نظر آرہی ہے ۔اس سے پہلے بھی دونوں پارٹیوں میں کئی موقوں پر پیدا اختلافات اور تعلقات میں آئی تلخی کسی سے پوشیدہ نہیں رہی۔موجودہ صورت حال گزرے دنوں کی یاد دلاتی ہے ۔کانگریس-بائیں بازو کی پارٹیوں کے درمیان تعلقات میں آئی تلخیاں 1959کے اس دور کی یاد دلاتی ہیں،جب اس وقت کی نہروحکومت نے اختلافات کی وجہ سے کیرالہ کی ای ایم ایس نمبودری پاد حکومت کو برخاست کردیا تھا۔ایسی ہی ایک مثال 2008 میں اس وقت سامنے آئی جب امریکہ کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے کے سلسلے میں ڈاکٹر من موہن سنگھ کی اتحادی حکومت میں شامل بائیں بازو پارٹیوں نے حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی تھی۔سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کے چھوٹے بیٹے اور اس وقت کے رکن پارلیمنٹ سنجے گاندھی کی کمیونسٹوں کے تئیں ناپسندیدگی ایک وقت میں اتنی شدید ہوگئی تھی کہ جب وہ کیرالہ یوتھ کانگریس کے لیڈر وائیلار روی اور دیگر سے یہ کہنے سے بھی نہیں چوکے کہ آپ سبھی کمیونسٹوں کی برتاؤ کررہے ہیں۔دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹیâبی جے پیáکا خیال ہے کہ مسٹر گاندھی کے وائناڈ سے الیکشن لڑنے سے کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیوں کے درمیان اختلافات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔بی جے پی لیڈرون کا کہنا ہے کہ مسٹر گاندھی کے اس قدم سے ان کی پارٹی ،خصوصاً کیرالہ ریاستی اکائی میں جہاں اندرونی اختلافات کو ظاہر کرتی ہے ،وہیں یہ صورت حال مارکسی کمیونسٹ پارٹی âسی پی ایمáمیں پرکاش کرات اور سیتارام یچوری گروپوں کے درمیان بڑھتی سرد جنگ کی تصدیق بھی کرتی ہے ۔بی جے پی کے ایک لیڈر نے کہا،‘‘دہلی میں واقع ایک بائیں بازو لیڈر نے بتایا کہ مسٹر گاندھی نے کیرالہ میں ایک مخصوص گروپ کے دباؤ میں آکر وائناڈ سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس کے علاوہ انہوں نے âمسٹر گاندھیáشمالی ہندوستان،خصوصاً اترپردیش میں اپنے تئیں ہندوؤں کی ناراضگی کو محسوس کرکے ایک محفوظ اور اقلیتی اکثریت والے پارلیمانی حلقے کا مطالبہ کیا ہے ۔کچھ سماجوادی لیڈروں کا بھی کہنا ہے کہ بائیں بازو پارٹیاں خصوصاً کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے 1960 کی دہائی میں کانگریس کے دو حصے ہونے کے وقت محترمہ گاندھی کو سنڈیکیٹ کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے میں مدد کی تھی،لیکن بعد میں بائیں بازو پارٹیوں کے ساتھ دوسرے درجے کا برتاؤ کیاگیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں