موجودہ الیکشن سچ اور جھوٹ کی لڑائی ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ہی نہیں بلکہ تاریخ کو بھی مسخ کرنے کی مذموم کوششیں جاری خانیار اور کنگن میں چناوی جلسوں سے ڈاکٹر فاروق کا خطاب,

,

سرینگر// آج نہ صرف جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن کیخلاف سنگین نوعیت کی سازشیں رچائی جارہیں بلکہ ہماری تاریخ کو مسخ کرنے کی بھی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں اس لئے ہمیں ان کشمیر دشمن اقدامات کیخلاف صف آرائ ہونے کی از حد ضرورت ہے۔ ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے خانیار اور کنگن میں چنائوی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر جنرل سکریٹری علی /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈر میاں الطاف احمد اور مبارک گل کے علاوہ کئی لیڈران موجود تھے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’میں کل جھیل ڈل میں نصب کئے گئے میوزکل فوارے کو دیکھنے کیلئے گیا تھا، وہاں جو پہلا حصہ تھا وہ بہت اچھا تھا لیکن دوسرے وقفے میں یہاں کی تاریخ کو مسخ کرکے پیش کیا گیا، جو انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے۔ اس وقفے کے دوران اُن حکمرانوں کی تعریفیں کی گئیں جنہوں نے کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے۔ میں حکومت اور انتظامیہ پر زور دیتا ہوں کہ سچی تاریخ عوام کے سامنے پیش کریں، تاریخ کو توڑ مروڑ اور مسخ کرکے پیش کرنا ہمیں قطعی قبول نہیں‘‘۔ صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ موجودہ انتخابات میں ہمیں ان عناصر کیخلاف ووٹ ڈالنا ہے جو نہ صرف ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ہٹانے کی کوشش کررہی ہیں بلکہ یہاں کی تاریخ کو مسخ کرنے کے در پے ہیں۔ موجودہ انتخابات میں چند سوال انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، کیا جموںوکشمیر عزت کیساتھ بھارت کیساتھ رہ سکتا ہے یا نہیں؟ کیا تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ عزت کیساتھ ملک میں رہ سکتے ہیں یا نہیں؟ کیا ہم پڑوسی کیساتھ محبت میں رہ سکتے ہیں یاہمیں نفرت میں رہنا ہے؟کیا جھوٹ کی جیت ہوگی یا سچ کامیاب ہوگا؟ان سب سوالوں کے جواب آپ کا ووٹ ہے۔ جو آپ کو صحیح لگتا ہے اُس کیلئے اپنا ووٹ استعمال کیجئے۔موجودہ الیکشن براہ راست سچ اور جھوٹ کا ہے اور ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم سچ کا ساتھ دیں گے یا جھوٹ کا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کو آزادی دلانے میں ہر ایک طبقے کی بے بیش بہا قربانیاں پیش کیں اورآزادی کے بعد اس بات کو یقینی بنایا کہ ہر ایک طبقے اور مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو آئین میں برابر حقوق ملے۔ جموںوکشمیر کابھی آزادی ہندوستان کیساتھ مشروط الحاق ہوا اور مہاراجہ ہری سنگھ نے یہ الحاق صرف3شرائط پر کیا۔ نیشنل کانفرنس کے بانی شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے بعد میں اس بات کو یقینی بنایا کہ ریاست کے مشروط الحاق کو آئینی تحفظ ملے اور ریاست کی اندرونی خودمختاری قائم و دائم رہ سکے۔ اور دفعہ370اور دفعہ35اے کے ذریعے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو آئین ہند میں تحفظ ملا۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان صرف ہندئوں کا دیش نہیں بلکہ یہ مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور بودھوں کا بھی ملک ہے۔ لیکن بھاجپا اور آر ایس ایس جیسی بھگوا جماعتوں کے غلبے سے ملک کی اقلیتیں عدم تحفظ کی شکار ہوگئیں ہیں کیونکہ یہ فرقہ پرست جماعتیں ملک کو ہندو دیش بنانا چاہتے ہیں۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں