افغانستان میں جنگی جرائم کی چھان بین کی درخواست مسترد

واشنگٹن /آئی سی سی نے افغانستان میں جنگی جرائم کی چھان بین کو مسترد کر دیا ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف یا آئی سی سی کے اس فیصلے میں، جسے متاثرین کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا ہے، ججوں نے عدالت کے پراسیکیوٹرز کی جانب سے افغانستان میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جنگی جرائم اور تنازع سے منسلک امریکی فورسز کے مبینہ جرائم کے بارے میں تفتیش دوبارہ کھولنے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت کے ایک بیان میں ججوں نے کہا ہے کہ کوئی بھی تفتیش انصاف کے مفادات حاصل نہیں کر پائے گی اور یہ پراسیکیوشن امکانی طور پر کامیاب نہیں ہو گی کیوں کہ امریکی اور افغان عہدے داروں اور طالبان سے، جنہیں درخواست میں ہدف بنایا گیا ہے، تعاون کی توقع نہیں ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان متاثرین کے لیے ایک زبردست دھچکا ہے جو بلا کسی داد رسی کے سنگین جرائم کا نشانہ بن چکے ہیں۔ آئی سی سی کا فیصلہ یہ ضرور تسلیم کرتا ہے کہ پراسیکیوٹر فاٹو بنسوڈا کی جانب سے تفتیش دوبارہ کھولنے کی درخواست اس بارے میں غور کرنے کی ایک معقول بنیاد فراہم کرتی ہے کہ افغانستان میں آئی سی سی کے دائرہ اختیار میں جرائم کا ارتکاب ہوا ہے اور وہ ممکنہ مقدمات عدالت کے سامنے پیش کیے جا سکیں گے۔ ایک تحریری رد عمل میں عدالت کے پراسیکیوشن آفس نے کہا کہ وہ اس فیصلے اور اس کے مضمرات کا مزید تجزیہ کرے گا اور قانونی حل کے تمام طریقوں کو زیر غور لائے گا۔یہ فیصلہ اس کے ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ واشنگٹن، آئی سی سی کے عملے کے ان ارکان کے ویزے منسوخ کر دے گا یا انہیں دینے سے انکار کر دے گا جو افغانستان یا کسی اور جگہ امریکی فورسز کے مبینہ جنگی جرائم اور دوسری زیادتیوں کی تفتیش کریں گے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں