پی ڈی پی سے 5سالہ حساب کتاب پوچھنے کا وقت آگیا حریت سے بات چیت کے بجائے انہیں مختلف کیسوں میں پھنسایا گیا

سرینگر/2014کے پارلیمانی انتخابات کے 5سال گزرجانے کے بعد ہمیں پی ڈی پی والوں سے گذشتہ5سال کا حساب کتاب نکالنا چاہئے کہ ان کا کون سا وعدہ پورا ہوا؟پی ڈی پی کے وعدوں میں شامل ترقیاتی کام کاج کہیں نہیں، امن اور مفاہمت کہیں نہیں، بے روزگاروں کو روزگار کہیں نہیں، حریت سے بات چیت کہیں نہیں، ہند و پاک دوستی کہیں نہیں، بجلی پروجیکٹ کہیں نہیں، افسپا کی منسوخی کہیں نہیںنیز قلم دوات جماعت کا ہر ایک وعدہ جھوٹ اور فریب پر مبنی نکلا۔ ان باتوں کا اظہار /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جنوبی کشمیر کے کوکرناگ اور مٹن میں چنائوی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی کے سینئر لیڈران جسٹسâآرá حسنین مسعودی âنامزد اُمیدوارá، غلام نبی بٹ اڈگامی،پیر محمد حسین، سعید توقیر اور سلام الدین بجاڑکے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ اپنے وعدوں کے عین برعکس پی ڈی پی نے بھاجپا کیساتھ مل کر ریاست کو تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ یہ اتحاد تعمیر و ترقی کے لحاظ سے اوندھے منہ گر گیا، امن اور مفاہمت کی باتیں کرنے والوں نے یہاں کے لوگوں کو بے چینی اور غیر یقینیت کے بھنور میں دھکیل دیا، بے روزگاروں کو روزگار دینے کے بجائے اقرباپروری کو ترجیح دی گئی اور عام اُمیدوروں کیلئے SRO-202نافذ کیا گیا، حریت سے بات چیت کے بجائے اُن کو مختلف کیسوں اور معاملوں میں پھنسایا گیا، پاکستان کیساتھ بات چیت تو دور کی بات یہاں تک جنگ کے بادل بھی چھانے لگے ، بجلی پروجیکٹوں کی واپسی کے بجائے اپنے بجلی سیکٹر کو مزید پیچھے دھکیلا گیا، افسپا کی منسوخی اور فوجی انخلائ کے بجائے پوری وادی کو فوجی چھاونی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ این سی نائب صدر نے کہا کہ ’’پی ڈی پی بھاجپا کی عوام کش پالیسیوں کی بدولت ملی ٹنسی کی نئی شروعات ہوئی، ہمارے پڑھے لکھے نوجوان، جو بڑی بڑی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پی ایچ ڈی اور دیگر ڈگریاں حاصل کررہے تھے، پچھلے 5سال مین اتنے پریشان اور ناراض ہوئے کہ انہوں نے بندوق کا راستہ اختیار کیا۔ ہمیں ریاست کو ان حالات سے نکالنا ہے، ہمیں نوجوانوں کی ناراضگی دور کرنی ہے، ہمیں اس ریاست میں ترقی کا نیا دور شروع کرنا ہے، ہمیں اس ریاست میں انصاف لانا ہے اور ایسا انصاف جس کیلئے لوگوں کو رشوت نہ دینا پڑے۔مجھے افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج پی ڈی پی کے ہر ایک جلسے میں کوئی نہ کوئی نوجوان کھڑا ہوکر کہتا ہے کہ میں نے تو نوکری کیلئے رشوت دی تھی پھر مجھے ابھی تک آرڈر کیوں نہیں ملا؟ میری ملازمت کا آڈر کہاں گیا؟‘‘عمر عبداللہ نے کہا کہ جس ترقی کی کوکرناگ کے لوگوں نے 5سال اُمید رکھی وہ تعمیر و ترقی کہاں ہے؟ وہ ٹنل کہاں ہے جس کے ذریعے ہم کشتواڑ سے ملتے، جس کے ذریعے ہم جموں سے ملتے، وہ سڑکیں کہاں ہے جن سڑکوں کے ذریعے ہم یہاں سیاحوں کے آنے کا انتظار کررہے تھے، وہ خواب ہی رہ کیا۔ پی ڈی پی ہر محاذ پر ناکام اس لئے ہوئی کیونکہ ان کی نیت صاف نہیں تھی، ان کے ارادے صحیح نہیں تھے۔ محبوبہ مفتی نے خود تسلیم کیا کہ انہوں نے اپنی جماعت کو بچانے کیلئے بھاجپا کیساتھ اتحاد کیا۔ اس مطلب یہ ہے کہ موصوفہ نے دفعہ370کیلئے ہیں، دفعہ35اے کیلئے نہیں، ریاست کی خصوصی پوزیشن کے بچائو کیلئے نہیں، افسپا کی منسوخی کیلئے نہیں بلکہ اپنی جماعت کو بچانے کیلئے ریاست کا سودا کردیا۔ کیا ہم ایسے لوگوں پر دوبارہ بھروسہ کرسکتے ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کیلئے ریاست کو سولی پر چڑھانے کیلئے تیار ہوں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا خطرہ ہمارے تشخص ہے، جب ہم دفعہ370اور35اے کو ہٹانے کی سازشوں کے تئیں اپنی فکر مندی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تو غلط نہیں کرتے ہیں۔ یہ دفعات صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، یہ دفعات صرف زبانی جمع خرچ نہیں ان دفعات کیساتھ ہمارا مستقبل اور ہماری پہنچان جڑی ہوئی ہے۔ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے یہاں کے لوگوں کو جب راتوں رات زمینوں پر مالکانہ حقوق دلائے یہ سب اس لئے ممکن ہوپایا کیونکہ یہاں ہمارا اپنا آئین اور سٹیٹ سبجیکٹ قانون تھا، جس کے ذریعے یہ زمینیں مقامی لوگوںکو ہی ملیں۔ یہی بات بھاجپا اور آر ایس ایس والوں کے گلے نہیں اُتری ، یہ لوگ کشمیریوں کو اپنی زمیوں کے مالک ہوتے نہیں دیکھنا چاہئے، ان لوگوں کو کشمیریوں کی خوشحالی اور خود کفالت برداشت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ ہم سے اس طرح یہ زمینیں چھیننا چاہتے ہیں جیسے ان لوگوں نے گجر اور بکروالوں سے دھیرے دھیرے جنگلوں پر حقوق چھینے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو نقصان ہوتا ہے تو اس کا نقصان براہ راست عام لوگوں پر پڑتا ہے۔ دریں اثنائ مٹن پہلگام میں چنائوی جلسے کا انعقاد ہوا۔پارٹی کے لیڈران جسٹس حسنین مسعودی، جنک سنگھ سوڑھی، شمی اوبرائے ، جگدیش سنگھ آزاد اور دیگر لیڈران نے بھی خطاب کیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں