سرحد کے آر پار تجارت کے ذریعے ہتھیاروں اور دیگر اشیائ کی سمگلنگ کا انکشاف - مرکزی وزارت داخلہ کی طرفسے غیرتصدیق شدہ اشیاکے کاروبار پرپابندی عائد

سرینگر/ کے این ایس /مرکزی وزارت داخلہ نے تازہ حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ایل او سی ٹریڈ کو معطل کردیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سرحدکے آر پار تجارت کے دوران اس پارغیر /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
قانونی طور پر مال بردار گاڑیوں کے ذریعے ہتھیار، نارکوٹکس اورغیر ملکی کرنسی کو برآمد کیا جاتا تھا۔  مرکزی وزارت داخلہ نے جمعرات کو تازہ حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ایل او سی ٹریڈ کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کراس ایل او سی ٹریڈ کو سلام آباد اور چکاں داں باغ کے مقام پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آرڈر میں واضح کردیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کو خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے مطابق کراس ایل او سی ٹریڈ راستوں کو پاکستانی عناصر کی جانب سے غلط طریقوں سے استعمال کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں سرحدکی دوسری جانب سے ہتھیار، نشیلی ادویات اور غیر ملکی کرنسی کا غیر قانونی کاروبار کیا جارہا ہے۔آرڈر میں بتایا گیا کہ ’’اس سلسلے میں کراس ایل او سی ٹریڈ کو معطل کیا جاتا ہے‘‘۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ سرحد کے آر پار تجارت میں ریاست جموں وکشمیر کے عوام کے مفاد کے پیش نظر صرف اُن اشیائ کے کاروبار کی اجازت دی جائےگی جو سرکاری طور پر تصدیق شدہ ہے۔مذکورہ آر ڈر جن سرکاری عہدیداروں کو روانہ کیا گیا ہے اُن میں چیف سیکرٹری جموں وکشمیر، جوائنٹ سیکرٹری مرکزی وزارت خارجہ، جوائنٹ سیکرٹری مرکزی وزارت کامرس، جوائنٹ سیکرٹری مرکزی وزارت زراعت، جوائنٹ سیکرٹری مرکزی وزارت دفاع، جوائنٹ سیکرٹری âمرکزی کابینی سیکرٹریá، جوائنٹ ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو، کمشنر مرکزی وزارت مال، پرنسپل سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری /کمشنر انڈسٹریز اینڈ کامرس، ڈی جی پی ، اے ڈی جی پی âسی آئی ڈیá، کسٹوڈین âسلام آبادá اور کسٹوڈین âچکاں داں باغá شامل ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں