چیف جسٹس کے معاملے میںوکیل مدعی کو دوبارہ حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت

نئی دہلیâیو این آئیá سپریم کورٹ نے چیف جسٹس رنجن گوگوئی پر عائد جنسی تشدد کے معاملے میں وکیل اتسو بینس سے کہا کہ وہ اپنا دعویٰ ثابت کرنے کےلئے جمعرات کو دوسراحلف نامہ داخل کریں۔ جسٹس ارون مشرا کی صدارت والی بنچ نے کہا’‘ہم نے وکیل اتسو بینس سے کہا ہے کہ وہ اپنا دعویٰ ثابت کرنے کیلئے جمعرات کو دوسرا حلف نامہ داخل کریں۔ ہم کل صبح10:30بجے اس معاملے کی سماعت کریں گے ۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ بنچ کے عدالتی اختیارات کے استعمال سے کسی زیر التوائ تحقیق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اس نے بینس سے اپنے الزامات کی تصدیق کےلئے ایک حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے ۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وہ بینس کے الزامات کے سلسلے میں ان کے دعوے پر دوپہر تین بجے سماعت کرے گا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں دہلی پولیس کمشنر، قومی تفتیشی بیورو کے ڈائریکٹر اور انٹلیجنس بیورو کے سربراہ کو بھی دوپہر12:30عدالت میں حاضر رہنے کا سمن جاری کیا تھا۔ بنچ نے کہا تھا ،‘اس پورے معاملے پر غوروخوض کرنے کےلئے ہم دہلی پولیس کمشنر، قومی تفتیشی بیوروکے ڈائریکٹر اور انٹیلیجنس بیورو کو بدھ کے روز دوپہر 12:30ججز کے چینبر میں جمع ہونے کا حکم دے رہے ہیں’۔ اس معاملے میں مسٹر بینس، سالسٹر جنرل تشار مہتا اور اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال عدالت میں حاضر ہوئے تھے ۔ مسٹر مہتا نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ سی بی آئی کے ڈائریکٹر کے دہلی سے باہر ہونے کی وجہ سے حاضر نہیں ہوسکتے لیکن ان کی جگہ عدالت میں جوائنٹ ڈائریکٹر موجود رہیں گے ۔ مسٹر مہتا نے یہ بھی کہا کہ چیف جسٹس کی شبیہ کو داغدار کرنے کی اس بڑی سازش کا انکشاف کرنے کےلئے سپریم کورٹ کو ایک خصوصی تفتیشی ٹیم کی تشکیل کا حکم جاری کرنا چاہیے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں