خصوصی پوزیشن کےساتھ چھیڑ چھاڑ ناقابل برداشت مرکزی حکومت کسی بھی قیمت پر دفعہ 370اور 35-Aکو ہٹانہیں سکتی :ڈاکٹر فاروق عبداللہ

سرینگر//ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت اور دوستی کو روشن اور پُرامن مستقبل کا واحد راستہ قرار دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ ’’پاکستان سے بات چیت کرنے کے بغیر مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، ہمیں مسئلہ کشمیر کا وہ حل نکالنا پڑے گا جس سے ہندوستان بھی خوش رہے ، پاکستان بھی راضی ہو اور سب سے بڑ ھ کر جموں وکشمیر کے عوام کی بھی عزت بنی رہے۔ان باتوں کا اظہار انہوں نے جنوبی کشمیر میں پارٹی کی چنائوی مہم جاری رکھتے ہوئے دیوسر قاضی گنڈ میں جلسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال،  /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
سٹیٹ سکریٹری چودھری محمد رمضان ، سٹیٹ سکریٹری پیرزادہ احمد شاہ،نامزد اُمیدوار جسٹس âرá حسنین مسعودی، ڈاکٹر بشیر احمد ویری، ایڈوکیٹ عبدالمجید لارمی، پیر محمد حسین اور سلام الدین بجاڑ کے علاوہ کئی لیڈران موجو دتھے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے خطاب میں مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’’آپ ہماری عزت کرو، ہم بھی آپ کی عزت کریں گے، آپ ہماری عزت نہیں کرو گے اور یہ سمجھو گے کہ ہم آپ کے غلام ہیں، تو آپ کو ہم سے محبت کی کوئی اُمید نہ رکھنی چاہئے۔جس دن آپ یہ سمجھو گے کہ ہم آپ کا تاج ہیں اور اس تاج کی عزت کروگے ، انشائ اللہ ہم بھی آپ کی عزت کریں گے۔‘‘فرقہ پرستی کی آندھی کو ملک کی سالمیت اور آزادی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ جس طرح ہٹلر نے اپنے ملک کو تباہ کیا اُسی راہ پر مودی بھی گامزن ہے۔ ’’یہ مت سمجھو کی 22کروڑ مسلمان تمہارے غلام ہیں، مسلمان ہندوستان کے برابر حقدار ہیں، مسلمانوں نے بھی ہندوستان کی آزادی کیلئے خون دیاہے، آپ ہم سے کہتے ہیں ہو کیا کھائو گے؟ کیا پیو گے؟ کیا پہنو گے؟اور خود قاتلوں اور دہشت گردی کے ملوثین کو الیکشن کی ٹکٹ دیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’آر ایس ایس اور بھاجپا والے دفعہ370اور 35اے کو ختم کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، میں ان سے کہتا ہو کہ آپ ہٹا کر دیکھئے،پھر آپ دیکھیں گے کہ ہم زور رکھتے ہیں یا نہیں، ہماری خاموشی کو یہ نہ سمجھنا کہ ہم دب گئے، ہم نے بہتوں کا مقابلہ کیا ہے، ہم نے مغلوں کا مقابلہ کیا ہے، ہم نے افغانیوںکا مقابلہ کیا ہے، ہم نے ڈوگروں کا بھی مقابلہ کیا ہے، ہماری مساجد میں گھوڑے باندھے گئے، ہمیں بیگاری پر لیا گیا اور مختلف قسم کے مظالم ڈھائے گئے لیکن یہ قوم مری نہیں، زندہ رہی اور آج بھی زندہ ہے۔اگر آپ سمجھتے ہو کہ آپ کشمیری قوم کو دبا سکتے ہو تو بہتر ہوگا کہ پہلے آپ ملک کشمیر کی تاریخ کا مطالع کریں‘‘۔اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیریوں کو زیر کرنے کیلئے نت نئے حربے اپنا جارہے ہیں۔کبھی آپریشن آل آئوٹ، کبھی آپریشنCASO، توڑ پھوڑ، مارپیٹ، پیلٹ گن، بے تحاشہ گرفتاریاں، فصلوں اور میوہ باغات کو نقصان پہنچانانیز ظلم و ستم کے تمام حربے اپنا گئے ۔ آج مذہبی رہنمائوں اور علیحدگی پسندوں کیخلاف مختلف کیس کھنگالے جارہے ہیں۔ نئی دلی کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ایسی سختیوں سے بات نہیں بنے گی، آپ نے یاسین ملک صاحب کو علیل حالت میں اسیر زندان بنا دیا ہے لیکن یاد رکھئے وہ اپنی قوم کا سودا نہیں کرنے والا، وہ موت کو ترجیح دے گا لیکن قوم سے بے وفائی نہیں کریگا۔لوگوںکو الیکشن عمل میں بھر پور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہو کہ ہم دفعہ370، دفعہ35اے اور دیگر چیلنجوں کیخلاف لڑیں لیکن دوسری جانب اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرنے نہیں نکلتے ۔ اگر آپ ووٹ نہیں ڈالیں گے تو ہم آپ کی لڑائی کیسے لڑ سکتے ہیں؟آپ کیسے اُمید کرسکتے ہیں کہ ہم آپ کے اشتراک اور تعاون کے بغیر ریاست کے تشخص اور پہنچان کو بچا سکیں گے۔ایک بہت بڑی سازش کے تحت آپ کو پولنگ بوتھوں کا رُخ کرنے سے روکا جارہا ہے تاکہ کشمیریوں کی آواز بے وزن ہوجائے لیکن آپ کو ان چالوں کو سمجھ کر پولنگ کے روز گھروں سے بھر پور انداز میں نکل کر ووٹنگ میں حصہ لینا چاہئے۔ اس ووٹنگ کے صندوق کے ذریعے ہی ہم لڑائی لڑ سکتے ہیں کیونکہ بندوق کسی مسئلہ کا حل نہیں۔پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی آج ریاست کے تشخص کا دفاع کرنے کی باتیںکررہی ہیںلیکن جب یہاں جی ایس ٹی کا اطلاق کیا تب کسی کی نہیں سُنی اور آر ایس ایس کی ایما پر جموںوکشمیر کی مالی خودمختاری نیلام کردی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں