باگندر بیج بہاڑہ میں خونریز معرکہ، حزب کمانڈر ساتھی سمیت جاں بحق جنگجوئوں کی نماز جنازہ میں بے شمار لوگوں کی شرکت ، ضلع میں کشیدگی کئی مقامات پر فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں

سرینگر/ یو پی آئی /اننت ناگ ضلع کے باگندر بجبہاڑہ علاقے میں سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان مختصر جھڑپ میںحزب کمانڈر سمیت دو مقامی عسکریت پسند جاں بحق ہوئے ۔ مقامی عسکریت پسندوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس دوران پورا گائوں اسلام و آزادی کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ بندشوں کے باوجود بھی دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ پولیس ترجمان کے مطابق جاں بحق سیکورٹی فورسز اور پولیس کو انتہائی مطلوب تھے ۔ عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 فورسز نے 24اور 25اپریل کی درمیانی رات کو بجبہاڑہ کے باگندر علاقے کو محاصرے میں لے کر بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا۔ نمائندے کے مطابق نماز فجر سے قبل ہی رہائشی مکان میں موجود عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان آمنا سامنا ہوا ۔ عین شاہدین کے مطابق فورسز اور رہائشی مکان میں موجود عسکریت پسندوں کے درمیان کافی دیر تک گولیوں کا تبادلہ جاری رہا جس کے ساتھ ہی رہائشی مکان سے آگ نمودار ہوئی اور جھڑپ کی جگہ فورسز نے دو مقامی عسکریت پسندوں کی نعشیں برآمد کی۔ جاں بحق ہوئے جنگجوئوں کی شناخت  شناخت صفدر امین ساکنہ بجبہاڑہ اور برہان احمد گنائی عرف ڈاکٹر سیف ا ﷲ ساکنہ اننت ناگ کے بطورہوئی ۔ نمائندے کے مطابق صبح دس بجے کے قریب مقامی عسکریت پسندوں کی نعشیں ورثا کے سپرد کی گئیں کے ساتھ ہی اننت ناگ اور بجبہاڑہ قصبوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرئے کئے۔ نمائندے کے مطابق لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جاں بحق جنگجوئوں کی لاشیں کاندھوں پر اُٹھا کر احتجاجی مظاہرئے کئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ گیارہ بجے کے قریب مقامی عسکریت پسندوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں نے شرکت کی۔ لوگوں کی تعداد کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ جاں بحق جنگجوئوں کی آٹھ مرتبہ آخری نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھنے کو ملا ۔ معلوم ہوا ہے کہ نماز جنازہ کی ادائیگی کے ساتھ ہی بجبہاڑہ اور اننت ناگ میں سیکورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا جو کافی دیر تک جاری رہا۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے تشدد بھر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ پلیٹ چھروں کا بھی استعمال کیا ۔ عین شاہدین نے بتایا کہ فورسز اور مظاہرین کے درمیان کافی دیر تک تصادم آرائیوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث بجبہاڑہ اور اننت ناگ قصبوں میں دن بھر حالات کشیدہ اور پُر تنائو رہے۔ پولیس ترجمان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق  جنوبی ضلع اننت ناگ کے باگندر محلہ بجبہاڑہ گائوں میں عسکریت پسندوںکے چھپے ہونے کی ایک خاص اطلاع موصول ہونے کے بعد پولیس اور سیکورٹی فورسز نے اس علاقے کو اپنے محاصرے میں لے کر اُنہیں ڈھونڈ نکالنے کیلئے گھر گھر تلاشی کارروائی کا آغاز کیا۔تو اسی دوران خود کو سلامتی عملے کے گھیرے میں پا کر ملی ٹینٹوں نے اندھا دھند گولیاں برساکر فرار ہونے کی بھر پور سعی کی تاہم حفاظتی عملے کی کارگر حکمت عملی نے اُنہیں فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی ۔ کچھ عرصہ تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں دو عسکریت پسند جاں بحق ہوئے جن کی بعد میں شناخت صفدر امین ساکنہ بجبہاڑہ اور برہان احمد گنائی عرف سیف ا ﷲ ساکنہ اننت ناگ کے بطور ہوئی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق مہلوک عسکریت پسند حزب کے ساتھ وابستہ تھے اور وہ سیکورتی فورسز پر حملوں ، عام شہریوں کو تشدد کانشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر سرگرمیوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کو انتہائی مطلوب تھے۔ پولیس بیان کے مطابق صفدر امین نامی ملی ٹینٹ کے خلا ف جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے اوراُس کے خلاف متعدد ایف آئی آر بھی درج ہیں۔ مذکورہ عسکریت پسند سیکورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور اُنہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے سلسلے میں بھی ملوث رہ چکا ہے۔ اسی طرح برہان گنائی نامی جنگجو بھی کئی حملوں میں ملوث رہ چکا ہے۔ جھڑپ کی جگہ اسلحہ وگولہ بارود اور قابلِ اعتراض مواد برآمد کرکے ضبط کیا گیا ۔مہلوک عسکریت پسند وں کی دیگر تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی بھی جانچ پڑتال ہو رہی ہے۔برآمد کئے گئے قابلِ اعتراض مواد کو قانونی جانچ کیلئے روانہ کیا گیا ہے۔  پولیس نے عام شہریوں سے جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی کرنے سے مکمل طور پر گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ ممکن ہے کہ جائے جھڑپ کے ارد گرد طرفین کی فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں کوئی بارودی شل یا مواد پھٹنے سے رہ گیا ہو لہٰذا عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے جب تک نہ جائے جھڑپ کو بارودی مواد سے پاک و صاف کیا جائےگا تب تک عام لوگ یہاں آنے سے اجتناب کریں۔ لوگوں سے التجا کی جاتی ہے کہ وہ حفاظتی عملے کو اپنا کام بہ احسن خوبی انجام دینے میں بھر پور تعاون فراہم کریں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہ آسکیں۔ادھر حزب کمانڈر اور اُس کے ساتھی کی ہلاکت کے خلاف اننت ناگ ضلع میں مکمل ہڑتال رہی ۔ دونوں قصبوں اور ملحقہ علاقوں میں دکان اور کاروباری ادارے بند ہیں جبکہ ٹریفک بھی سڑکوں سے غائب ہے۔حکام نے حساس مقامات پر فورسز اہلکاروں کی اضافی تعیناتی عمل میں لائی ہے جبکہ موبائیل انٹر نیٹ سروس بھی معطل کی گئی ہے۔ضلع بھر میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے جگہ جگہ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں