ہندوستان نے ایشیائی ایتھلیٹکس میں جیتے 3 طلائی سمیت 17 تمغے

دوحہ/ ہندستان نے قطر کے دوحہ میں 23ویں ایشیائی ایتھلیٹکس چمپئن شپ میں تین طلائی، سات چاندی اور سات ہی کانسے کا تمغہ جیت کر 17تمغوں کے ساتھ ٹورنامنٹ کا اختتام کیا۔چمپئن شپ کے آخری دن خاتون 1500میٹر دوڑ میں پی یو چترا نے طلائی تمغہ جیتا اور مرد 1500میٹر دوڑ میں اجے کمار سروج نے چاندی کا تمغہ پر قبضہ جمایا۔خاتون 4ضرب 400میٹر ریلے ریس میں ٹیم نے چاندی اور خاتون 200میٹر دوڑ میں دوتي چند نے ہندوستان کو کانسی تمغہ دلایا۔مرد4ضرب 400میٹر ریلے ریس میں اگرچہ ہندستان کے کنھو محمد، ایس جیون ، محمد انس یحیی اور اروکیا راجیو نے ریس میں دوسرا مقام حاصل کیا تھا لیکن دوسرے کھلاڑی کی دوڑ میں رکاوٹ ڈالنے کے سبب ہندستانی ٹیم کو قوانین کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا جس کی وجہ سے اروکیا راجیو کی شاندار کارکردگی بھی بیکار چلی گئی۔ہندستان کی ٹورنامنٹ کے آخری دن شروعات طلائی تمغہ کےساتھ ہوئی۔چترا جکارتہ میں ہوئے ایشیائی کھیلوں میں بحرین کی کھلاڑی سے طلائی تمغہ کی دوڑ میں ہار گئی تھیں جس کا بدلہ لیتے ہوئے انہوں نے اس بار طلائی تمغہ پر قبضہ کیا۔چترانے طلائی تمغہ جیتنے کے بعد کہاکہ میں جکارتہ کی ہار کا بدلہ لینا چاہتی تھی۔مجھے خوشی ہے کہ میں نے سست دوڑ والے مقابلے میں تمغہ جیتا اور اپنے 2017کے خطاب کو بچانے میں کامیاب رہی۔انہوں نے دوڑ 4: 14.56 وقت میں مکمل کی۔بحرین کی کھلاڑی نے ان کو شکست دینے کی بھرپور کوشش کی لیکن چترا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔


ہندستان کے اجے کمار نے بھی اچھی کارکردگی اور فوٹو فننش کے فیصلے کے بعد قطر کے مسعب علی کو شکست دے کر مرد 1500 میٹر دوڑ میں چاندی کا تمغہ جیتا۔انہوں نے ریس 3: 43.18 کے وقت میں مکمل کی جو مسعب علی کے وقت کے بے حد ہی قریب تھا۔
اس کے علاوہ اسپرنٹر دوتي چند نے 200 میٹر خواتین دوڑ میں 23.24 سیکنڈ میں دوڑ کو پورا کرتے ہوئے کانسی کا تمغہ جیتا۔گوت مرلی کمار نے مرد 5000 میٹر دوڑ میں 13: 48.99 منٹ میں دوڑ کو پورا کرتے ہوئے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن وہ تمغہ نہیں جیت سکے اور پانچویں نمبر پر رہے ۔
خاتون 4 ضرب 400 میٹر ریلے ریس میں ھما داس کے بغیر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندستانی ٹیم نے 3: 32.21 منٹ میں دوڑ کو پورا کیا اور چاندی کا تمغہ جیتا۔اس مقابلے کے تیسرے لیگ میں سریتابین گایکواڑ نے زبردست دوڑ لگائی لیکن پراچی، ایم آر پووما، سریتا وي آر وسمیا کو اتنا فاصلہ نہیں دے پائے کہ وہ آخری لیگ میں بحرین سلوا ناصر کو شکست دے سکتی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں