رحمتوں، عظمتوں اور برکتوں کا مہینہ

رمضان المبارک بے شمار فضیلتوں ،رحمتوں ،عظمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے جو ہم پر سایہ فگن ہوچکاہے ۔اس مبارک مہینے کی عظمت کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ اس مہینے میں ایک نیکی کےلئے ہزاروں ثواب مقرر کئے گئے۔ گویا یہ مہینہ اپنے اندر بے شمار اور ان گنت رحمتیں لایا ہے اور اگر ہم چاہیں تو اس مہینے اپنے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کرواسکتے ہیں بشرطیکہ ہم صدق دلی سے اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اپنے اعمال کو نیک کریں تاکہ آیندہ ہم سے کوئی بھی گناہ یا لغزش سرزد نہ ہوجائے ۔ کیونکہ آخرت کی پکڑ سے بچنے کےلئے یہ مہینہ ہی کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان کی صورت میں اپنے بندوں کو ایک عظیم تحفہ عنایت فرمایا ہے جسے نیکیاں کمانے کا سیزن اگر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ کسی بھی موقعے سے فایدہ اٹھانے کےلئے ضروری ہے کہ اس کے متعلق بہتر حکمت عملی اختیار کی جائے۔ جس طرح دینوی معاملات میں بہتر حکمت عملی سے مقصد کو حاصل کرنا آسان بن جاتا ہے اسی طرح اخروی معاملات کےلئے اگر بہتر حکمت عملی اختیار کی جائے اور اس پر عمل کیاجائے تو اخروی مقصد کو پانا بھی آسان بن جائے گا۔ اس بابرکت مہینے میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹنے کےلئے ضروری ہے کہ صدق دلی سے عبادت کی جائے ۔آگ برساتے ہوئے سورج ،جھلسا دینے والی دھوپ، دہکتی ہوئی زمین اور تپتے ہوئے عالم میں روزہ رکھنا اس قدر مشکل اور دشوار نہیں جس قدر روزے کی حفاظت کرنا اور اس کو بحسن خوبی اختتام و تکمیل تک پہنچانا۔ روزہ محض کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ یہ پورے جسم، ذہن اور روح کی پاکیزگی اور تمام قسم کے لغو، بیہودہ اور فضول کامو ں سے بچنے کا نام ہے۔ روزے کا ایک فلسفہ یہ بھی ہے کہ پورے ایک ماہ تک ہر قسم کی بدزبانی، بد کلامی وغیرہ سے دور رہ کر اپنے اخلاق و روحانیت کو بلند کرنا، اپنے آپ کو جفاکش بنانا یہ اسلئے کہ ہم کو ہر طرح کے ماحول، آب و ہوا اور حالات میں مشقت کا عادی بن کر دکھانا ہے۔ اگر امن و خوشحالی اور کشادگی میں ہم جفاکش نہ بن سکے تو مصیبتوں ،سختیوں اور تنگ دستی کی سختیاں ہم کیسے جھیل سکتے ہیں۔ روزہ ایک عظیم عبادت ہے جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ بندے کو خود عطا فرمانے کا وعدہ کرچکے ہیں۔ اسلئے بغیر کسی شرعی عذر روزہ بالکل نہ چھوڑیں۔ آج جب ہم اپنے معاشرے کی حالت دیکھتے ہیں تو سرشرم سے جھک جاتا ہے۔ اسلئے یہ مہینہ والدین کےلئے نعمت سے کم نہیں کہ وہ اس مہینے اپنے جواں بچوں جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں کو اسلامی مزاج میں ڈھالنے کی بھر پور کوششیں کریں کیوںکہ جیسا کہ ان ہی کالموں میں لکھا جاچکاہے کہ نوجوانوں میں منشیات کی لت پڑی ہوئی ہے اور وہ دین سے دور ہوتے جارہے ہیں دین سے دوری ہی دراصل ہر فساد، برائی، بد تمیزی اور غلط حرکات و سکنات کی بنیادی وجہ ہے اسلئے والدین کے ساتھ ساتھ دینی مبلغوں پر یہ فرض عاید ہوتا ہے کہ وہ خاص طور پر نوجوانوں کو دین حق کی طرف راغب کرنے کی کوششیں کریں کیونکہ نوجوان قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اسلئے دینی مبلغوں کو چاہئے کہ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت نوجوانوں کے کردار کی پاکیزگی کو یقینی بنانے کی طرف صرف کریں اور نوجوانوں کو یہ بات سمجھائیں کہ اگر وہ نشے کی لت میں مبتلا رہینگے تو وہ نہ تو دنیا کے رہینگے اور نہ ہی دین کے۔ اسلئے اس مہینے کو غنیمت جان کر ہم پر لازم ہے کہ ہم نوجوانوں کو بری عادتوں سے بچانے کےلئے ہر طرح کے اقدام اٹھائیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں