جموںاور سرینگر کے درمیان ریل کیوں نہیں؟

اس سے قبل ان ہی کالموں میں سرینگر جموں شاہراہ کی حالت زار کے بارے میں حکام کی توجہ مبذول کروائی گئی کہ اب یہ شاہراہ ناقابل بھروسہ بن گئی ہے۔ کیاپتہ کب بند ہوگی؟ اس شاہراہ نے اب تک ہزاروں انسانوں سے ان کی زندگیاں چھین لیں لیکن اس کے باوجود ابھی تک اس کے متبادل کا کوئی موثر انتظام نہیں کیاگیا۔ زمانہ کافی آگے بڑھ گیا ہے ٹیکنالوجی میں انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں لیکن ابھی تک سرینگر جموں شاہراہ کےلئے موثر متبادل کا انتظام نہیں کیاجاسکاہے۔ برسو ں پہلے ناردرن ریلویز نے جموں سے سرینگر تک ریلوے لائن بچھانے کا کام ہاتھ میں لیا۔ جموں سے اب کٹٹرہ تک ریل چل رہی ہے اور بانہال سے بارہمولہ تک بھی ریل باضابطہ پٹڑی پر دوڈ رہی ہے لیکن بیچ کے حصے میں ابھی تک ریل چلانے میں کیوں لیت و لعل کیاجارہا ہے اس بارے میں کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے۔ جموں سرینگر کے درمیان ریل شروع کرنے کےلئے اب تک درجنوں ڈیڈ لائنیں مقرر کی گئی ہیں لیکن ان پر عمل ندارد۔ حالانکہ پٹڑی بچھائی گئی ہے اور کئی ٹنل بھی بناے گئے لیکن پھر بھی نہ جانے اس معاملے میں کوئی پیش رفت کیوں نہیں کی جارہی ہے۔ اگر سرینگر جموں شاہراہ پرریل چلنے لگے گی تو اس سے بہت سے مسایل کاحل نکل سکتا ہے۔ وادی کےلئے اشیائے ضروریہ کی کبھی کوئی قلت پیدا نہیں ہوگی۔ سیاحتی سیزن کو بھی بڑھاوا مل سکتا ہے۔ کاروبار میں اضافہ ہوگا اور معیشیت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ حال ہی میں جو فیصلہ ریاستی حکومت نے فوجی کانواے کے حوالے سے لیا اور جس پر عوامی حلقوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا کے بارے میں بھی حکومت کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تھی لیکن اس کے باوجود ابھی تک ریل چلانے میں لیت ولعل پر عوامی حلقوں میں چہ مہ گوئیاں ہورہی ہیں۔ گذشتہ دنوں یعنی بدھ سہ پہر کو اچانک رام بن سیکٹر میں ڈگڈول کے مقام پر پسیاں گر آئیں جس کے نتیجے میں سڑک کا ایک لمبا حصہ ڈھہ گیا۔ جو ہزاروں مسافر اور مال بردار ٹرک اور دوسری گاڑیاں شاہراہ پر درماندہ ہیں ان کے مسافروں کا کہنا ہے کہ سڑک کہیں نظر ہی نہیں آرہی ہے اگرچہ بلڈوروں سے پسیاں ہٹانے کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے لیکن تین دن گذر گئے ابھی تک سڑک پر ٹریفک کی بحالی کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں ۔جو لوگ ان گاڑیوں میں سفر کررہے ہیں جو درماندہ ہیں میں بچے بوڑھے اور عورتیں شامل ہیں ان کو کھانے پینے اور رہایش کے سلسلے میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں کئی مقامات پر گاڑیاں وہاں کھڑی ہیں جہاں دور دور تک ہوٹل یا گیسٹ ہاوس یا مارکیٹ نہیں ہے۔ اسی طرح میوہ اور سبزیاں سڑ رہی ہیں لائیو سٹاک ڈیلرس کا برا حال ہے اور وہ پریشان ہیں کہ کریں تو کیا کریں اسلئے مرکزی اور ریاستی حکومت دونوں کو چاہئے کہ وہ جموں اور سرینگر کے درمیان براہ راست ریل چلانے کےلئے فوری نوعیت کے اقدمات اٹھاے تاکہ کشمیری عوام کو جو ا س حوالے سے مشکلات درپیش ہیں ان کا ازالہ کیاجاسکے ۔ریاستی حکومت بھی اطمینان کا سانس لے سکتی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں