پانچ محکموں کےخلاف کاروائی کی شروعات

 گورنر انتظامیہ نے سرکاری دفاتر میںبے ظابطگیوں، بد عنوانیوں اور دھاندلیوں کی بے شمار شکائتیں ملنے کے بعدپہلے مرحلے پر پانچ سرکاری دفاتر میں ہوئی دھاندلیوں کی تحقیقات کے احکامات صادر کئے اور اس سلسلے میں پانچ فیکٹ فائینڈنگ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن کو ان محکموں میںہوئی تقرریوں ،رشوت ستانیوں اور دوسرے واقعات کے بارے میں مکمل تفصیلات جمع کرنے کا کام سونپا گیا تاکہ وہ اپنی مکمل رپورٹ گورنر کو سونپ سکیں جس کے بعد آگے کی کاروائی ہوگی۔ اس سلسلے میں راج بھون ذرایع سے جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق گورنر کو کئی محکموں میں ہوئی رشوت ستانی اور غیر قانونی تقرریوں کی شکائیتیں موصول ہوئی ہیں جس کا انہوں نے سخت نوٹس لیا ہے اور ان کی تحقیقات کا فیصلہ کرکے فیکٹ فائینڈنگ کمیٹیاں تشکیل دی ہیں تاکہ بد عنوانیوں کا پردہ فاش ہوسکے اور ان میں ملوث افراد خواہ وہ کسی بھی پوزیشن کے مالک کیوں نہ ہوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جاسکے۔ جن پانچ محکموں میں یہ کاروائی ہو گی ان میں خاص طور پر ریاستی سپورٹس کونسل بھی شامل ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ان اداروں میں سیاسی بنیادوں پر جو تقرریاں عمل میں لائی گئی ہیں ان سب کو کالعدم قرار دیا جائے گا تاکہ اس سے جن پڑھے لکھے امیدواروں کی حق تلفی ہوئی ہے ان کو انصاف مل سکے ۔ اسی طرح ٹھیکوں کی الاٹ منٹ میں بھی بے ظاطگیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور جن لوگوں کو ٹھیکے فراہم کئے گئے ہیں وہ منظور نظر افراد تھے جبکہ اس معاملے میں بھی مستحق ٹھیکیداروں کے حقوق پر شب خون مارا گیا ۔ ابھی ان کمیٹیوں کے خد و خال پوری طرح واضح نہیں ہوسکے ہیں البتہ ان کمیٹیوں کی سربراہی اعلیٰ پایہ کے گزیٹڈافسروں کو سونپی گئی تاکہ تحقیقاتی کام خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیا جاسکے۔ جن محکموں میں ہوئی دھاندلیوں کی تحقیقات شروع کی جارہی ہے ان میں سکل ڈیو لپمنٹ بھی شامل ہے۔ جن پانچ محکموں کو چن چن کر نامزد کیا گیا ان کے بارے میں کچھ زیادہ ہی شکائیتیں موصول ہورہی تھیں۔ راج بھون ذرایع نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے پر صرف ان پانچ محکموں کے خلاف کاروائی ہوگی جبکہ آگے چل دوسرے محکموں کےخلاف بھی کاروائیوں کے امکانات روشن ہیں۔باوثوق ذرایع نے معلوم ہوا ہے کہ متذکرہ بالا محکموں میں ہر ضابطے اور قواعد کو بالاے طاق رکھ کر تقرریاں عمل میں لائی گئی ہیں ۔جن میں نہ کوالفکیشن اور نہ ہی عمر کو مد نظر رکھا گیا بلکہ مبینہ طور پیسوں کے بل بوتے پر تقرریاں عمل میں لائی گئیں۔ سرکاری ذرایع کا کہنا ہے کہ متذکرہ بالا محکموں میں اس قدر دھاندلیاں عمل میں لائی گئیں کہ بغیر کسی ضرورت کے عملے کی تعیناتی عمل میں لاکر خزانہ عامرہ پر بھاری بوجھ ڈالکرسرکاری رقومات کو بے دریغ خرچ کیا گیا۔ اسی طرح دوسرے معاملات بھی ہیں جن کو حل کرنے کےلئے باضابطہ رشوت لی اور دی گئی۔ چنانچہ گورنر کے اس اقدام کا خیر مقدم کیاجارہا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ جو بھی کاروائی ہوگی وہ صاف و شفاف ہونی چاہئے تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو سکے ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے فیکٹ فائینڈنگ کمیٹیوں کو دوسرے محکموں کے اندر بھی جھانکنے کی ضرورت ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں