تحریک لبیک کے قائدین کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم

لاہور /14مئی/  لاہور ہائی کورٹ نے تحریکِ لبیک پاکستان کے گرفتار رہنماوں خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے پیر افضل قادری کی ضمانت طبی بنیادوں پر 15 جولائی تک منظور کی ہے جبکہ خادم رضوی کو ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم سنایا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے منگل کو خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا جو عدالت نے گزشتہ ہفتے محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے تحریکِ لبیک کے سرپرستِ اعلیٰ پیر افضل قادری کو علاج کے لیے 15 جولائی تک رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 15 جولائی کو پیر افضل قادری لاہور ہائی کورٹ کے روبرو پیش ہوں جس کے بعد ان کی مستقل ضمانت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ عدالت نے ٹی ایل پی کے سربراہ خادم رضوی کی ضمانت پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی ہے۔ دونوں مذہبی رہنماوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں کئی مقدمات زیرِ سماعت ہیں جن میں ان پر لوگوں کو تشدد اور توڑ پھوڑ پر اکسانے اور قومی اداروں کے بارے میں تضحیک آمیز الفاظ استعمال کرنے کے الزامات ہیں۔ تحریکِ لبیک نے سپریم کورٹ کی جانب سے مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہینِ مذہب کے الزام سے بری کرنے کے خلاف گزشتہ سال نومبر میں ملک بھر میں پرتشدد احتجاج کیا تھا جس کے چند ہفتوں بعد حکام نے پارٹی کے خلاف کریک ڈاون کرکے اس کی پوری قیادت اور سیکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ خادم رضوی اور افضل قادری اس کے بعد سے سرکاری تحویل میں ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں