اداکار کمل ہاسن کے بیان پر تنازع: ’آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ہندو تھا‘

سرینگر/ مانٹرنگ/ 14مئی/ بھارت کے معروف اداکار کمل ہاسن نے اتوار کو جنوبی ریاست تمل ناڈو کے قصبے پالاپٹی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے یہ بیان دیا تھا جس نے انڈیا کے سیاسی ماحول کو گرما دیا۔ کمل ہاسن نے چند ماہ قبل اپنی سیاسی پارٹی مکّل نیدھی مایم âایم این ایمá لانچ کی ہے۔ انہوںنے تمل زبان میں تقریر کی اور جو لفظ استعمال کیا تھا اس کا ترجمہ ’انتہا پسند‘ ہے نہ کہ ’دہشت گرد‘ لیکن ہندی اور انگریزی میڈیا نے دہشت گرد کا لفظ استعمال کیا ہے۔ بہرحال ان کے بیان نے انڈیا کے سیاسی ماحول میں ایک طوفان برپا کر دیا اور سوشل میڈیا پر اس کے بارے میں کئی ٹرینڈز گردش کر رہے ہیں جن میں ’کمل ہاسن‘، ’گوڈسے‘، ’ہندوسافٹ ٹارگٹ‘ وغیرہ اہم ہیں۔ انڈیا کی حکمران جماعت بی جے پی اور ان کی اتحادی جماعتوں نے کمل ہاسن کے اس بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ کمل ہاسن کی انتخابی مہم میں مزید شرکت پر پابندی عائد کرے اور ان کی پارٹی کی منظوری ختم کر دے۔ انڈین میڈیا کے مطابق بی جے پی رہنما اشونی اپادھیا نے ان کے خلاف شکایت درج کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا بیان ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے۔ کمل ہاسن کی پارٹی پارلیمانی انتخابات میں شامل ہے۔ لیکن یہ ریلی ریاستی اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں تھی جہاں پارلیمانی انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے میں 19 مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں