وادی میںکرکٹ بیٹ بنانے والی صنعت زوال کے دہانے پر حکومت کی جا نب سے بیٹ بنانے والے ہنر مندو ں کی کبھی کوئی مدد نہیں کی گئی

سر ینگر /کشمیر میں کرکٹ بیٹس صنعت زوال کے دہانے پرکھڑی ہے جس بلے سے کرکٹ کا کھیل کھیلا جاتاہے اسے بنانے والے دانے دانے کے محتاج بی سی سی آ ئی مرکزی و ریاستی حکومتوںنے کبھی بھی کرکٹ بیٹ صنعت کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرنے کیلئے کبھی بھی اقدامات نہیںاٹھائے ۔اے پی آ ئی کے مطابق اگرچہ دنیا میں کئی ممالک ہی کرکٹ کاکھیل کھیلتے ہے تاہم اس کھیل نے اب دنیا کے ان ممالک کوبھی اپنی طرف توجہ دلانے پرمجبور کردیاجواسے بیکار کھیل تصور کیاکرتے تھے دنیا میںکرکٹ بیٹ چند ممالک میںہی بنانے جاتے ہیںاور بر صغیرکے دو بڑے ملکوں بھارت پاکستان میںاگرچہ کرکٹ بیٹ بنانے کے سینکڑوں کار خانے موجود ہیں تاہم وادی کے بید کی لکڑی سے بنانے جا نے والے کرکٹ بیٹ دنیامیں مشہور اوربہترماناجاتاہے تاہم کرکٹ بیٹ کی صنعت کو مضبوط و مستحکم مارکیٹ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اب زوال آ نے لگاہے اور کرکٹ بیٹ بنانےوالے دانے دانے کے محتاج ہیںاورخون پسینہ ایک کر کے کرکٹ بیٹ بنانے والے اپنی پیٹ کی آگ کوبجھانے کیلئے طرح طرح کے مشکلا ت کاسامناکر رہے ہے ۔ستم طریفی کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف مرکزی حکومت ریاست کواپنا تاج اٹوٹ انگ کہلانے میںکوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کررہی ہے وہیں دوسری جانب وادی کشمیرکے ساتھ سوتیلی ماں کاسلوک رواں رکھنے کاکوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی ہے اگر مرکزی حکومت نے بی سی سی آ ئی کوہدایت کی گئی ہو تی کہ کرکٹ بیٹ بنانے والوں کی امداد کیلئے وہ آ گے آ ئے اوراس صنعت کوفروغ دینے کیلئے یادارہ اپنی خدما ت انجام دے ۔2014کے تباہ کن سیلاب نے کرکٹ بیٹ بنانے والے مالکان کے کارخانوںکوتباہ  وبرباد کرکے رکھ دیا لاکھوں روپے مالیت کی بید کی لکڑی اور ہزاروں کی تعدامیں کرکٹ بیٹ سیلاب کے نظرہوگئے اور سرکا رکی جانب سے ان کارخانوں کومالی معاونت کرنے کیلئے کوئی کارروائی عمل میںنہیں لائی ۔بھارت کاسچن ٹنڈولکرہویا مہیندر سنگھ دھونی پاکستان کاعمران خان ہویامیاں داد ریچڑ ہیڈلی ہویا ڈیویڈ بون کرکٹ کے بیٹ نے انہیں اونچائیوں پرپہنچا دیااورآ ج دنیا انکانام عزت کےساتھ لے رہی ہے مگر وادی کشمیرمیںکرکٹ بیٹ بنانے والے اپنی پیٹ کی آ گ کوبجھانے کی خاطرجن مسائل و مشکلات کاسا منا کررہے ہے اس کی کئی مثال نہیں ملتی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں