شہر مےں گدا گروں کی بھر مارسے لوگ پریشان - مساجد ، خانقاہوں ، بازاروں اور گاڑیوں میںان کی موجودگی باعث پریشانی

سرینگر /سی این ایس:  ماہ رمضا ن کے متبرکہ اےام کو غنیمت سمجھ کر بھکا رےوں کی جانب سے مساجد ، خانقاہوں ، بازاروں اور گاڑیوں میں لوگوں کو تنگ طلب کرنے کے رحجان نے سنگین رخ اختیار کرلیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق وادی میں اگرچہ بھکاریوں کی آمد کا سلسلہ سال بھر بلا روک ٹوک جاری رہتا ہے تاہم اس مقدس مہینے میں ان کی ریکارڈ توڑ تعداد وادی میں داخل ہوئی ہے اور وہ اس مہینے میں اچھی خاصی آمدنی حاصل کررہے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق ان بھکاریوں نے مساجد ، خانقاہوں ، زیارتگاہوں کے علاوہ مصروف ترین بازاروں میں ڈھیر ہ جمایا ہے جبکہ وہ گاڑیوں میں داخل ہو کر مسافروں کو صدقہ خیرات دینے کیلئے تنگ طلب کررہے ہیں اس کے علاوہ جہاں لوگوں کی اچھی خاصی بھیڑ یا نقل وحمل زیادہ ہوتی ہے وہاں یہ موقعہ کو غنیمت سمجھ کر ہاتھ پھیلا پھیلا کر لوگوں کا جینا دوبھر کردیتے ہیں ۔ ان غیرریاستی بھکاریوں میں چھوٹی لڑکے لڑکیاں اور خواتین بھی شامل ہوتی ہیں ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے وادی کشمیرکو بھیک مانگنے کا اڈہ بنارکھاہے ۔ لو لے لنگڑے اور ہر قسم کے بھکاری ان دنوں گلیوں اور کوچوں میں نظر آتے ہیں اور دعائیں دیکر لوگوں کو لوٹنے میں کائی کسر باقی نہیں رکھ رہے ہیں ۔ ایسے ناتواں بھکاریوں کی اکثر تعداد تمام اہم ریڈ لائیٹس کے علاوہ بڈشاہ پل اور امیراکدل پر نظر آرہی ہے جہاں دن کے اجالے میں سڑکوں پر لیٹ کر اور سینہ تان آسمان کی طرف کرکے راہ خداہ میں بھیک کیلئے پکارتے رہتے ہیں ۔حال ہی میں شہر کے سیول لائنز میں لوگوں نے بھکاریوں کی یلغار کے خلاف زوردار احتجاجی مظاہرے کئے ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پوری وادی گدا گروں کے اڈے میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ اگرچہ حکومت نے چند سال قبل ان بھکاریوں کی آمد پر پابندی عائد کرنے کی بات کہی تھی تاہم ابھی تک وہ اعلان کا غذوں تک ہی محدود رہا ہے ۔انتظامیہ کی خاموشی سے ہر روز ان بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جوبلا روک ٹوک وادی میں داخل ہوکر کھلے عام گھومتے رہتے ہیں ۔ واضح رہے یہ غیر ریاستی بھکاری وادی میں مختلف مجرمانہ سرگرمیوں کے مرتکب ہورہے ہیں جن میں اغوا کاری قتل ، ڈاکہ زنی اور منشیات کی سمگلنگ شامل ہے ۔ادھر ذی شعور لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان غیرریاستی بھکاریوں کے وادی میں داخلے پر پابندی لگائی جائے تاکہ لوگوں کو اس صورتحال سے چھٹکارا مل سکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں