ہندوپاک کی طر فسے خیر سگالی کے تحت اسیران کی رہائی- گیلانی نے خیر مقدم کرتے ہوئے کشمیری نظر بندوں کو رہا کرنے پر زور دیا

سرینگر:ññحریت چیرمین گ سید علی گیلانی نے بھارت اور پاکستان کی طرف سے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں آپسی خیر سگالی کے تحت اپنے اپنے ممالک کے قیدخانوں میں اسیران کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی خوش آئندہ قدم ہے۔ انہوں نے اِسی خیر سگالی کے جذبے کے تحت ریاست کے اندر اور ریاست سے باہر بھارت کے جیل خانوں میں پندرہ پندرہ، بیس بیس برسوں سے جرمِ بے گناہی میں سڑائے جارہے کشمیری اسیران زندان کو رہا کئے جانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ مسئلہ کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے، لہٰذا دونوں ممالک پر اس مسئلے کے دو اہم فریق ہونے کے ناطے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کے جیل خانوں کے اندر مقید اسیرانِ بے تقصیر کو رہا کرنے میں انسانی ہمدردی کو نظرانداز نہ کریں۔ حریت راہنما نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ریاست جموں کشمیر کے اسیران زندان کے تئیں بھارت کے جیل خانوں کے اندر اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ انسانی حقوق کے چارٹر کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے قیدیوں کو تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم کرنے کے علاوہ ان کی حالت زار پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ عالمی ریڈکراس اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی معتبر انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارت کے جیل خانوں کا دورہ کرنے پر پابندی عائد کئے جانے کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے حریت چیرمین نے کہا کہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے اسیران زندان کے ساتھ کس قسم کا ظالمانہ سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے اس حقیقت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر خالصتاً ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے، لہٰذا بھارت کے جیل خانوں کے اندر جموں کشمیر کے ہزاروں اسیران زندان کو سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بنانا اور ان کی مدّتِ اسیری کو طول دینے کی غرض سے تمام تر قوانین اور قیدیوں سے متعلق تسلیم شدہ ضوابط اور حقوق کو بالائے طاق رکھنا رحمدلی اور انسانی شان کے خلاف ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں