کنٹرول لائن پر عسکریت پسند درازی کی تاک میں :کرن رجیجو- کہا صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوج اور نیم فوجی دستوں کو تیاری کی حالت میںرکھا گیا ہے

سر ینگر /اے پی آ ئی/ پاکستان کی سر زمین بھارت مخالف سرگرمیوںکیلئے استعمال ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے امورداخلہ کے وزیرمملکت نے کہا کہ جدید ہتھیاروں سے لیس عسکریت پسند ریاست جموں کشمیر میں دا خل ہونے کیلئے در اندازی کی تاک میں ہے تاہم عسکریت پسندوں اور ان کی اعانت کرنے والوں کے ارادوںکو کامیاب نہیں ہونے دیا جا ئےگا، صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوج اور نیم فوجی دستوںکوبھرپورصلاحیت حاصل ہے۔ میزورم میں ذرائع ابلاغ کے ساتھ سوالوںکاجوا ب دیتے ہوئے امورداخلہ کے وزیرمملکت کرن رجو نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ کسی بھی طرح کی مخاصمت نہیں چاہتا ہے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کوبہتر بنانے کی ہمہ وقت کوشش کر رہاہے ۔انہوںنے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اپنی سرزمین بھارت مخا لف سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کی اجازت دی جارہی ہے اوراس سلسلے میں بھارت کوجو پختہ ثبوت ملے ہے ان سے صا ف ظاہرہوتا ہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندوںکیلئے تر بیتی کیمپ چل رہے ہیں اور تر بیت حاصل کرنے والوںکو بھارت مخا لف سرگرمیوں کیلئے ذمہداریاں سونپ دی جاتی ہے ۔کرن رجونے کہا کہ بڑی تعداد میںجدید ہتھیاروں سے لیس عسکریت پسند ریاست جموں کشمیرکے حدود مں داخل ہونے کیلئے پرتول رہے ہے اوراس سلسلے میں باربار پاکستان رینجرس کی جانب سے جنگ بندی معاہدےکی خلاف ورزی بھی کی جارہی ہے تاکہ دراندازوں کیلئے راہ ہموار کی جاسکے ۔انہوںنے کہا کہ رمضان المبارک کے ایام ختم ہونے کے بعد حدمتارکہ اور بین الاقوامی لائن آ ف کنٹرول پرعسکریت پسندوںکی سر گرمیوںمیںاضا فہ ہوسکتاہے اور بڑی تعداد میٰں عسکریت پسند ریاست جوں کشمیرمیں دا خل ہونےکی بھر پور کوشش ک سکتے ہے ۔امورداخلہ کے وزیرمملکت نے کہاکہ حدمتارکہ اور بین الاقوامی لائن آ ف کنٹرول پرفوج اور نیم فوجی دستوںکومتحرک رہنے کی پہلے ہی تلقین کی گئی ہے تاہم فوج اورنیم فوجی دستوں کوکسی بھی صوت تحال سے نمٹنے کی پوری صلاحیت ہے ۔ امورداخلہ کے وزیرمملکت نے کہا کہ چین بھارت کے مابین سرحدوں کاتعین کرنے کیلئے بات چیت کاسلسلہ جاری ہے اور چین کی جانب سے اب ڈوکلام جیسی صورتحال کودہرایا نہیں جا سکتاہے۔ انہوںنے کہا کہ چین کواس بات کااحساس ہوگیا ہے کہ بھارت کے ساتھ سرد مہری رکھنااس کیلئے سود مند ثابت نہیں ہوسکتاہے اور چین کی تجارت کوبڑے پیمانے پردھچکا بھی لگ سکتاہے ۔ 

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں