سرینگر جموںشاہراہ کا بار بار بند ہونا معشیت پر برے اثرات مرتب

 سرینگر جموں شاہراہ اب ناقابل بھروسہ بنتی جارہی ہے اور دوسرے تیسرے دن کے بعد اسے گاڑیوں کی آمد ورفت کےلئے بند کردیا جاتا ہے ۔ ان ہی کالموں میں بار بار اس کا تذکرہ کیاجاچکا ہے کہ اس شاہراہ کے بار بار بند ہونے سے وادی میں معشیت پر برے اثرات مرتب ہونے لگے ہیں اور تاجرزبردست خسارے سے دوچار ہورہے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایام میں جب شاہراہ سات دنوں کےلئے بند رہی تو اس سے وادی کے تاجروں کا یومیہ تیرہ تیرہ کروڑ کا نقصان ہوا ہے اس سے قارئین کرام اس بات کا بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں جب سڑک ہفتے میں دو ایک بار بند ہو جاتی ہے تو اس سے یہاں کے تاجر کس قدر نقصان سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ دوسری جانب نہ تو ریاستی اور نہ ہی مرکزی حکومت جموں سرینگر ریل سروس شروع کرنے کےلئے اقدامات کررہی ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اب تک ریل سروس شروع ہوچکی ہوتی۔ پٹڑی بھی بچھائی گئی ہے۔ ٹنلیں بھی مکمل ہوچکی ہیں صرف اور صرف اس کا افتتاح کرنا باقی ہے اسلئے اگر حکومت چاہتی ہے کہ یہاں کی معشیت پھلے پھولے اور لوگ آگے بڑھ سکیں تو اسے فوری طور ایک تو ریلوے سروس شروع کرنے کا اعلان کر نا چاہئے اور دوسری بات یہ ہے کہ مغل روڈ کو قومی شاہراہ کا درجہ دیا جانا چاہئے تب کہیں جاکر سرینگر جموں شاہراہ پر گاڑیوں کا دبائو کم ہوگا اور اگر یہ بند بھی ہوجائے گی تو سرینگر اور جموں کے درمیاں ٹریفک چالو رہے گا۔ لیکن نہ جانے کیوں اس معاملے میں دونوں حکومتیں غفلت شعاری کا مظاہرہ کررہی ہیں ورنہ یہاں کب کی ریل سروس شروع ہوچکی ہوتی۔ کل ہی ریاستی پولیس کے ڈائیریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے شاہراہ کے اس حصے کا دورہ کیا جہاں باربار پسیاں گر رہی ہیں اور ان ہی مقامات پر پسیاں اور چٹانیں کھسکنے سے سڑک ڈھہ جاتی ہے اور ناقابل استعمال بن جاتی ہے۔ اب بیکن عملہ سڑک کے اسی حصے پر اپنی توجہ مبذول کئے ہوئے ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق جو مٹی کے تودے اور پسیاں گرتی ہیں ان کو بلڈوزروں کی مدد سے چناب میں ڈالا جاتا ہے اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا تو چناب کا رخ تبدیل ہوسکتا ہے جس کے مثبت نتایج بر آمد نہیں ہوسکتے ہیں بلکہ اس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصانات کے خدشات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شاہراہ کو چوبیس گھنٹے چالو رکھنے سے قبل اس بات کا خاص خیال رکھا جانا چاہئے کہ ا س پرکچھ فلائی اوور ٹایپ کے پل تعمیر کئے جانے چاہئے۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے فاصلوں کو سمیٹ دیا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں انجینئرپہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر ایسی سڑکیں تعمیر کرتے ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے جبکہ ایک پہاڑی سے دوسری بڑی پہاڑی تک آنے جانے کےلئے سڑکیں بنانے کےلئے بڑے بڑے اور اونچے پلرس کا استعمال کیاجاتاہے لیکن یہاں ابھی تک ہمارے ماہرین دقیانوسی طریقے استعمال کرکے سڑکیں بنانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے نہ تو سڑکیں بن پاتی ہیں اور نہ ہی سال بھر لوگ ایک دوسری جگہ آجاسکتے ہیں۔ سرینگر جموں شاہراہ کی تعمیر و تجدید کےلئے ماہرین کی خدمات حاصل کی جانی چاہئیں تب کہیں جاکر اس پر بارہ مہینے گاڑیوں کی آمد و رفت جاری رکھی جاسکتی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں