کسی پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہوسکتی، سیاسی ماہرین کی پیشن گوئی,

,

لوک سبھا انتخابات کا آخری مرحلہ بھی اختتام پذیر ہوا اور اس مرحلے کے دوران مغربی بنگال میں زبردست ہنگامہ آرائیاں ہوئیں، کئی پولنگ بوتھوں پر دھماکے بھی ہوئے، ماردھاڑ اور توڑ پھوڑ کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے اور لوگوں نے ووٹ بھی ڈالے۔ بہت سے پولنگ بوتھوں پر ہنگامے اور تشد د کے واقعات رونما ہوئے ۔ ٹی ایم سی کی طرف سے بھاجپا پر غنڈہ گردی اور ووٹروں کو دھمکانے ڈرانے کے الزامات عاید کئے جاتے رہے۔ مبصرین کے مطابق مغربی بنگال میں دراصل ٹی ایم سی کا مقابلہ ٹی ایم سی سے ہی ہے کیوںکہ ترنمول کانگریس کے جن ممبران کو پارٹی سے کسی بھی وجہ کی بنا پرنکالا گیا وہ بھا جپا میں شامل ہوگئے اور وہی دنگا فسادات کروارہے ہیں جس کے نتیجے میں ووٹنگ کے دوران درجنوں افراد زخمی بھی ہوگئے۔ مغربی بنگال کے سوا دوسری ریاستوں میں ووٹنگ کا عمل بحیثیت مجموعی پرامن رہا۔ آخری مرحلے پر سات ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ایک علاقے کی 59نشستوں کےلئے ووٹنگ ہوئی۔ اس طرح سات مرحلوں میںجو ووٹنگ ہوئی اس کاسلسلہ اب ختم ہوگیا ہے اور نتایج کا اعلان 23مئی سے ہوگا۔ ووٹنگ کے دوران بعض اہم واقعات رونما ہوئے۔ بھاجپا نے بھوپال سے ڈگ وجے سنگھ کے مقابلے میں سادھوی کو میدان میں اتارا جو مالیگائوں بم دھماکے میں ملوث ہے اور جس میں 9معصوم لوگ جاں بحق ہوئے تھے آج کل وہ پیرول پر جیل سے باہر ہے اور اسی اثنا میں اسے بھاجپا نے منڈیڈیٹ دیا جس پر پارٹی میں اندرونی خلفشار بڑھ گیا کیوںکہ اس سے پارٹی کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگئی۔ اس کے بعد اس نے گاندھی جی کے قاتل گوڈسے کو سب سے بڑا محب وطن قرار  دیا اس پر اپنی ہی پارٹی کے کارکن وغیرہ اس سے بدظن ہونے لگے اگرچہ بھاجپا نے کہا کہ اس نے یہ بیان اپنی ذاتی حیثیت سے دیا جس کا پارٹی سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن اس کے باوجود لوگ یہ ماننے کےلئے تیار نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہے تو سادھوی کو پارٹی سے کیوں نکال باہر نہیں کیاجارہا ہے ؟ ادھر کل نتیش کمار نے بھی بھاجپا پرچوٹ کرتے ہوئے کہا کہ سادھوی کو فوری طور باہر کا راستہ دکھایا جانا چاہئے۔ بہر حال انتخابات مکمل ہوگئے اور مختلف ٹی وی چینلز نے ایکزٹ پول دکھانا شروع کئے۔ ان میں ایک بات جو سب میں مشترکہ طور پر نظر آئی وہ یہ کہ سب چینلز نے یوپی کے مہاگٹھ بندھن کو بھاجپا پر سبقت لیتے ہوئے دکھایا جبکہ گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں کانگریس کو زیادہ نشستیں ملنے کی پیشن گوئی کی گئی اور کہا گیا کہ آثار و قرارئین سے پتہ چلتا ہے کہ بھاجپا کو ان انتخابات میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اور سال 2014کے مقابلے میں اسے بہت کم نشستوں پر کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ ان قیاس آرائیوں کا اگر احاطہ کیا جائے تو یہ بات تقریباًتقریباًیقینی ہے کہ اس بار پارلیمنٹ میں کسی بھی سیاسی پارٹی خواہ وہ بھاجپا ہو یا کانگریس کو اکیلے اتنی نشستیں حاصل نہیں ہونگی جتنی حکومت کی تشکیل کےلئے لازمی ہیں یعنی 272سیٹیں ایک بار پھر مخلوط حکومت کے آثار نظر آرہے ہیں اور جو کوئی بھی پارٹی حکومت بنائے گی اس میں اسے چھوٹی چھوٹی علاقائی پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنا ہی ہوگی ۔ اب نتایج کے اعلان میں زیادہ دیر نہیں اور اسی وقت جب 23مئی کو نتایج کا اعلان ہوگا صورتحال واضح ہوسکتی ہے ۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں