سیاحوں کیلئے بہتر سہولیات کا فقدان

ریاستی گورنر کے مشیر خورشید گنائی نے گذشتہ دنوں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں سیاحتی سیزن کی کامیابی کےلئے کئے جارہے اقدامات پر افسروں کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے کئی اہم اقدامات کااعلان کیا اور کہا ریاستی حکومت کی یہ کوشش رہے گی کہ یہاں آنے والے سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات بہم پہنچائی جاسکیں تاکہ واپس جاکر وہ دوسرے لوگوں کو بھی کشمیر کی سیاحت پر راغب کرسکیں۔ اس میٹنگ میں گورنر کے مشیر نے افسروں کو سے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سیاحتی مقامات پر سیاحو ں کو ہر طرح کی سہولیات بہم پہنچائی جاسکیں۔ ان میں خاص طورپر مناسب مقامات پر بیت الخلائوں کی تعمیر و تجدید شامل ہے۔ اس اجلاس میں سیاحت کے حوالے سے اور بھی کئی فیصلے لئے گئے۔ اب جہاں تک حقایق کا تعلق ہے تو ہر سیاحتی مقام پر بیت الخلائوں کو مناسب مقامات پر تعمیر نہ کرنے سے سیاحوں کو زبردست پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سب سے مشہور و معروف نشاط باغ کا جہاں تک تعلق ہے تو باغ کے نیچے لازمی طور پر ایک ایسا بیت الخلا ہونا چاہئے جہاں مردوں کےلئے الگ اور خواتین کےلئے الگ انتظامات ہوں لیکن نشاط باغ کے نیچے ایسا کوئی انتظام نہیں ہے۔ بھلے ہی اس کےلئے کوئی فیس مقرر کی جائے لیکن ہر باغ کے گیٹ کے قریب ہی اس طرح کا انتظام ہونا چاہئے۔ جو سیاح گاڑیوں سے اتر کر باغ میں داخل ہونا چاہتے ہیں لیکن ایسا کرنے سے قبل ان کو حاجت بشری کی ضرورت پڑتی ہے لیکن ایسی کوئی سہولت نہ ہونے کی بنا پر ان کو زبردست پریشانی لاحق ہوتی ہے اس بارے میں متعدد مرتبہ ان ہی کالموں میں حکام کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جاچکی ہے لیکن اب تک اس پر کان نہیں دھرا گیا۔ یہ صرف نشاط کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر سیاحتی مقام پر مناسب جگہ کا انتخاب کرکے بیت الخلا کی تعمیر لازمی ہے اس کے علاوہ بلیوارڈ پر بھی اسی طرح بیت الخلا تعمیر کرنے کی ضرورت ہے کیوںکہ اکثر حاجت بشری کی صورت میں سیاح ہوٹلوں کا رخ کرتے ہیں جو ان کےلئے انتہائی کٹھن مرحلہ ثابت ہوتا ہے کیوںکہ کبھی کبھار ہوٹل مالکان ان کو اپنے باتھ روم استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہاں مہم جو اور پلگرم ٹوارزم کو بھی بڑھاوا دینے کی ضرورت ہے لیکن ابھی تک اس جانب شاید حکام زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں ورنہ مہم جو ٹوارزم اور پلگرم ٹوارزم کےلئے یہاں کافی گنجایش ہے۔ چونکہ وادی مہم جو ٹوارزم کےلئے سب سے بہتر جگہ ہے اسلئے مہم بازوں کو یہاں کی چوٹیوں کی طرف راغب کرنے کےلئے بڑے پیمانے پر تشہیری مہم چلانے کی ضرورت ہے اور اس مہم کا دایرہ بھارت تک ہی نہیں بلکہ مغربی ممالک میں بھی بڑھایا جانا چاہئے، کیوںکہ دیکھا گیا ہے کہ یورپی نوجوان مہم جو ٹوارزم میں اچھی خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔جبکہ بھارت میں بھی اب مہم جو اور پلگرم ٹوارزم کو بڑھاوا دیا جارہا ہے اس طرح ریاستی حکومت کو بھی اس جانب کام کرنا چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں