اصلاح معاشرہ تب ہی ممکن ہے جب ہر فرد بشر خود کا محاسبہ شروع کرے، زیارت دستگیر صاحب پر مولانا غلام محی الدین نقیب کا بیان،عوام نے سراہنا کی

سرینگر /وادی کے معروف عالم دین مولانا غلام محی الدین نقیب نے کل یہاں اصلاح معاشرہ کی وضاحت کرتے ہوے کہا کہ اس بارے میں ہر فرد بشر کو چاہئے کہ وہ خودکو اسلامی تعلیمات میں ڈھال کر سماج میں پائی جانے والی برائیوں کا خاتمہ کرنے کے لئے اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں ۔کل یہاں 16ماہ صیام کو زیارت دستگیر صاحبؒسرائے بالا میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوے مولانا موصوف نے کہا کہ اگر لوگ اصلاح معاشرے کی بات کرتے ہیں تو ان کو چاہئے کہ وہ پہلے خود کا محاسبہ کریں کہ وہ کہاں پرہیں کس حال میں ہیں اور کیا کررہے ہیں ۔اس بارے میں انہوں نے پیغمبر اسلام ؐ کی تعلیمات کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوے کہا کہ آپ ؐ نے کس طرح اصلاح معاشرہ کی تشریح کی اور کس طرح امت پر یہ بات واضح کردی کہ وہ اپنے والدین ،بہن بھائیوں ،اولاد اور دوسرے رشتہ داروں کے علاوہ ہمسائیوں خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کریں ۔انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت ،اخوت اور ایک دوسرے کی عزت و تکریم سے ہی معاشرہ پھلتا پھولتا ہے اور اس میں پائی جانے والی برائیوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔مولانا موصوف نے کہا کہ آج کل لوگ اپنے والدین اور رشتہ داروں کو نظر انداز کرنے لگے ہیں جو ایک خطرنا ک رحجان کو جنم دے سکتا ہے ۔انہوں نے پیغمبر اسلام ؐ کی سیرت پاک کا تذکرہ کرتے ہوے کہا کہ انہوں نے بار بار اس بات کی تلقین کی کہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ محبت ،احترام کے جذبات کا اظہار کرنے سے ہی معاشرے میں اصلاح کے لئے گنجایش پیدا ہوتی ہے نہ کر نفرت ،حسد اور عداوت سے ۔انہوں نے کہا کہ یہ جذبات انسان کو جہنم کی طرف کھینچ لیتے ہیں اسلئے ان چیزوں سے ہر صورت میں دوری بناے رکھنی چاہئے ۔مولانا نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی بار بار بے عزتی سے اجتناب کریں ۔ان کے ساتھ پیار و محبت سے پیش آنا چاہئے اور اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ کوئی بھی ایسا کام نہ کریں جس سے ان کی زندگیاں بر باد ہوجائینگی۔مولانا موصوف نے  اصلاح معاشرے پر جو مدلل بیان دیا اور جس طرح دین اسلام کی روشنی میں لوگوں کو سمجھایا  اس کی ہر سطح پر تعریفیں کی جارہی ہیں اور ان کی آمد اور زیارت دستگیر صاحب پر بیان کا بڑے پیمانے کا خیر مقدم کیاجارہا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں