ہندوپاک کے درمیان مذاکرات شروع کرانے کیلئے کوششیں جاری، برصغیر کے حالات پر امریکہ کی کڑی نگاہ، کنٹرول لائن پر گولہ باری پر اظہار تشویش،فی الوقت کسی بھی طرح کی مداخلت کے حق میں نہیں:امریکی وزارت خارجہ

واشنگٹن/کئی دہائیوں سے تصفیہ طلب مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اوربھارت کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کیلئے سفارتی کوششیں کی جارہی ہیںکی بات کرتے ہوئے امریکی خارجہ ترجمان نے کہاہے کہ کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بڑھتی جار ہی جو باعث تشویش ہے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق امریکی خارجہ ترجمان جان ہکنی لوپر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہند پا ک کے درمیان سرحدی کشیدگی باعث تشویش ہے ۔ انہوں نے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پرگہری تشویش ظاہر کی،انہوں نے کہا کہ امریکہ کی یہ پالیسی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر ہندوستان اور پاکستان کو باہمی مذاکرات تیز کرنے ہونگے کیونکہ اس پالیسی پر گامزن ہے کہ دونوں ممالک کی خود مختااری کا احترام کرتے ہوئے دخل اندازی سے گریز کیا جا ئے۔تاہم انہوں نے کہا کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تازہ گولہ باری باعث تشویش ہے اور اس صورتحال کو قابو میں کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کی سرحدیں محفوظ رہیں اور کشیدگی کا کوئی بھی عنصر نہ رہے۔جبکہ ہندوپاک کی حکومتوں کو کشمیر کے معاملے پر اب پیش رفت کرنی ہی ہوگی کیونکہ یہ مسئلہ اب برصغیر کے امن کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ہندوپاک قیادتیں دانشمندی کا مظاہرہ کرکے خطے میں کشیدگی کوہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں گے۔انہوں نے کہاکہ باہمی مذاکرات ہی بہتر ذرائع ہیں جس سے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی مجبوریوں کو بھی سمجھ سکتے ہیں اور انہیں مجبوریوں کے تحت مسائل کو حل کرنے کے علاوہ بات چیت کے راستے کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ برصغیر کے حالات پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے اور وہ فی الوقت کسی بھی طرح کی مداخلت کے حق میں نہیں۔تاہم انہوں نے کہاکہ ہندوپاک کو اپنے مسائل کے حل کیلئے پیش رفت کرنی ہی ہوگی تاکہ صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں