گوشت کی مصنوعی قلت

کتنے افسوس کی بات ہے کہ ماہ صیام کے ان ایام میں یہاں نہ صرف گوشت کی مصنوعی قلت پیدا کردی گئی بلکہ دوسری چیزوں کی قیمتوں میں بھی حد سے زیادہ اضافہ کردیا گیا۔ جب سرینگر جموں شاہراہ بار بار بند ہوتی تھی تو اس وقت گوشت کی قلت کوئی انوکھی بات نہیں تھی کیونکہ ایک تو راستہ بند تھا اور راستے میں بہت سے بھیڑ بکرے اور مرغ دانہ پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے تھے لیکن اس وقت گوشت کی دکانیں کیوں بند ہیں یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ قصاب ہر ماہ رمضان کے دوران گوشت کی قیمتوں میں حد سے زیادہ اضافہ کرنے کےلئے اس کی مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں اور اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ قصابو ں او ر کوٹھداروں نے اچانک گوشت کی مصنوعی قلت پیدا کردی تاکہ قیمتوں میں اضافے کےلئے جواز پیدا کیاجاسکے اسلئے صوبائی انتظامیہ کو چاہئے کہ گوشت کی قیمتوں میں کسی بھی صورت میں ایسا اضافہ نہ کیاجائے جو غیر ضروری اور نا جائیز ہو۔ جیسا کہ پہلے بھی ان ہی کالموں میں اس بات کا تذکرہ کیاجاچکا ہے کہ ہر دیوالی، نوراترا اور ہولی وغیرہ پر باہر کے تاجر اور دکاندار ہر چیز پر چھوٹ کا اعلان کرتے ہیں اور وہ چھوٹ برائے چھوٹ نہیں ہوتی ہے بلکہ وہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ راحت دلانے کےلئے کم سے کم منافع کماتے ہیں لیکن یہاں کے تاجر ماہ مبارک اور عید پر ہی مختلف اشیائ کی نہ صرف مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں بلکہ دوسرے بہانوں سے ان کی قیمتوں میں اضافہ کرکے لوگوں کی جیبیں کاٹنے کا کام کرتے ہیں۔ قیمتوں میں اضافہ کوئی نئی بات نہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ایسا صرف ماہ مبارک میں ہی کیوں ہوتا ہے۔ ان لوگوں کے دلوں میں نہ تو خوف خدا ہے اور نہ آخرت کی پروا۔ تاجروں اور دکانداروں کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ جائیز منافع کمائیں لیکن جب یہی دکاندار حد سے زیادہ اور ناجائیز منافع کمانے لگے گا تو اس کےلئے قانون کو فوری طور پر حرکت میں آنا چاہئے اور ان کےخلاف ایسی سخت کاروائی کی جانی چاہئے کہ دوسرے عبرت حاصل کرسکیں۔ تعجب کا مقام ہے کہ ایسے تاجر اور دکاندار عام لوگوں کو یر غما ل بنا کر رکھ دیتے ہیں۔ دوسرا اہم مسئلہ میوہ جات اور سبزیوں کا ہے۔ ان دونوں کی قیمتیں کون متعین کرتا ہے اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں۔ اس بارے میں صوبائی انتظامیہ کا رول نظر نہیں آتا ہے میوہ فروش اور سبزی والے خود قیمتیں مقرر کرتے ہیں ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جاتی ہے۔ اور وہ اپنی من مانیوں سے باز نہیں آتے ہیں۔ اب یہ نہ صرف شہر میں ہی ہوتا ہے بلکہ ہر قصبے اور گائوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ گذشتہ دنوں مارکیٹ چکنگ سے قیمتوں میں تھوڑا سا اعتدال پیدا ہوگیا تھا لیکن اب پھر سے وہی صورتحال پیدا کردی گئی۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کو ماہ صیام میں ہر لازمی چیز دستیاب ہو اور وہ بھی مناسب قیمتوں پر لیکن اس کو کیا کہیے کہ اسی ماہ صیام میں نہ صرف اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا کردی جاتی ہے بلکہ ناجائیز منافع خوری کے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑے جانے لگے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں