بھاجپا کے سامنے کئی اہم چلینج

 سال 2014کے مقابلے میں بھاجپا نے اس بار فتح و نصرت کے تمام سابق ریکارڈ توڑ ڈالے اور اس بارے میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں کہ بھارت بھر میں لوگوں نے نریندر مودی پر اپنا اعتماد ظاہر کرکے بھاجپا کے حق میں ووٹ ڈالے۔ بھاجپا کی جیت سے اس بات کا بھی اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگتی ہے کہ لوگ اس پارٹی کی پالیسیوں اور پروگراموں سے پوری طرح متفق ہیں اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو بھاجپا کو اسطرح کی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی جس طرح کی کامیابی اسے اب کی بار ملی ہے ۔ اب چونکہ بھاجپا دوبارہ بر سر اقتدار آرہی ہے ظاہر ہے کہ نئی حکومت کو نہ صرف گھریلو سطح پر بلکہ بیرونی سطح پر بھی بہت سے چلینجوں اور خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے اور نئی مرکزی حکومت کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ وہ ان لوگوں کی توقعات پر پورا اترے جنہوں نے اس کے حق میں اپنے ووٹ دے کر اسے مسند اقتدار پر بٹھایا۔ گذشتہ دنوں جب ایکزٹ پول منظر عام پر آگئے تو سیاسی حلقوں میں ان پر کافی بحث مباحثہ ہوا اور بعض نے تو ان کو یہ کہہ کر پوری طرح مسترد کردیا کہ یہ ایکزٹ پول صحیح نہیں ہوسکتے لیکن جس طرح نتایج سامنے آئے ہیں ان سے پتہ چلا کہ ایکزٹ پول واقعی صحیح نہیں تھے کیوںکہ بھاجپا کو اس سے بھی زیادہ ووٹ حاصل ہوئے اور تعجب کا مقام ہے کہ جن پارلیمانی حلقوں میں بھاجپا کو اس بات کا یقین تھا کہ ان حلقوں میں اس پارٹی کے امیدواروں کو زبردست مقابلہ کرنا پڑ سکتاہے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ بھاجپا امیدواروں نے اپنے مد مقابل امیدواروں کو آسانی سے ہرایا۔ سیاسی حلقوں میں کانگریس اور اس کی دوسری حلیف پارٹیوں کی کارکردگی پر مختلف نوعیت کی قیاس آرائیا ں کی جارہی ہیں کیوںکہ کانگریس سمیت ان پارٹیوںکی کارکردگی اس قدر ناقص ثابت ہوئی جس پر یقین ہی نہیں آتا ہے۔ یو پی کے مہاگٹھ بندھن نے بھی کوئی تیر نہیں مارا جبکہ مغربی بنگال میں بھی بھا جپا غیر متوقع طور پر ابھر ی جو ممتا بینر جی کےلئے کسی اچھنبے سے کم نہیں۔ آندھرا کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو کی وہ ساری محنت رائیگاں ہوگئی جو وہ بھاجپا مخالف فرنٹ بنانے کےلئے کررہے تھے۔ ووٹ شماری سے قبل ہی انہوں نے مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنمائوں کے ساتھ اس معاملے پر تبادلہ خیال کیاتھا لیکن ان کی وہ ساری کوششیں غارت گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے وزارت اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ دوسری ریاستوں میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اور تو اور خود بھاجپا کو بھی خود اس بات کایقین نہیں آتا ہوگا کہ پارٹی کو اس قدر کامیابی ملے گی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اس جیت سے بھاجپا کی ذمہ داریاں اور زیادہ بڑھنے لگی ہیں۔ اندرونی سطح پر اسے بیروزگار ی سب سے بڑے چلینج کی صورت ہے جبکہ امن و قانون کی صورتحال بھاجپا کےلئے بھی درد سر بن سکتی ہے۔ کشمیر کے بارے میں اس پارٹی کا کیا موقف ہوگا یہ دیکھنا باقی ہے۔ کیونکہ الیکشن مہم کے دوران بھاجپا کا ہر چھوٹا بڑا کارکن یا رہنماکشمیر کے بارے میں بیانات دے رہا تھا۔ خود مودی اور امیت شاہ بھی کشمیر کے بارے میں بیانات دیتے رہے ہیں اور سب کا کہنا تھا کہ آئین ہند کے تحت اس ریاست کو جو خصوصی پوزیشن عطا کی گئی ہے اسے ختم کردیا جائے گا۔ اب جبکہ بھاجپا نے میدان مارلیا دیکھنا یہ ہے کشمیر کے بارے میں مرکز کو ن سی پالیسی اختیار کرےگی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں