نیشنل کانفرنس اقلیتوں کو انصاف اور علاقائی خودمختاری کیلئے وعدہ بند - اب ہمارے سامنے اصلی امتحان ہے: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

سرینگر//صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر آج ریاست بھر سے تعلق رکھنے والے پارٹی لیڈران، عہدیداران، کارکنان، معزز شہریوں اورسماج کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا تانتا بندھا رہا۔ لوگوں نے پارلیمانی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کی کامیابی پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو مبارکباد پیش کی، پھولوں کے گلدستے پیش کئے اور پھولوں کے ہار پہنائے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کی کامیابی کیلئے لوگوںکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوامی اشتراک کے بنا یہ کامیابی ناممکن تھے اور جس طرح سے کشمیری عوام نے اپنی آبائی جماعت کو بھر پور تعاون دیا ہم اُس کیلئے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب ساتھ ہوکر چلیں ، اسی میں ہماری کامیابی اور کامرانی کا راز مضمر ہے۔ ہمیں جماعت کو سوچ کر چلنا ہے، جماعت کو مضبوط کرنا ہے، جماعت کی کامیابی ہی فرد کی کامیابی ہوتی ہے۔ ہم نے پہلا امتحان پاس کرلیا ہے، جس کیلئے آپ مبارکبادی کے مستحق ہیں، اب ہمارے سامنے اصلی امتحان ہے اور اُس میں کامیابی کیلئے ہمیں/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 بہت زیادہ محنت کرنے ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم اور عوامی اشتراک سے نیشنل کانفرنس اگلی حکومت بنائے گی اور ہماری حکومت سب کو ساتھ لے کر چلے گے۔ انہوں نے خطہ چناب، پیرپنچال ، جموں ،لداخ اور کرگل میں نیشنل کانفرنس کے حمایتی اُمیدواروں کو ووٹ ڈالنے کیلئے اپنے ووٹروں کا بھی تہیہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تمام اقلیتوں کیساتھ انصاف کرنے کے ساتھ ساتھ نیشنل کانفرنس ریاست کے تمام خطوں اور ذیلی خطوں کی علاقائی خودمختاری کیلئے وعدہ بند ہیں۔ ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے مرکزی سرکار سے اپیل کی کہ وہ سخت گیر پالیسی سے گریز کر کے پاکستان کے افہام وتفہیم کی بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو سیاسی طور پر بات چیت شروع کریں ۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں امن لوٹ آنے کی واحد صورت کہ مسئلہ کشمیر کو اہل کشمیر کے امنگوں اور خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہئے اور ریاست کے لوگوں کو دفعہ 370 تحت جو آئینی اور جمہوری مراعت دئے گئے ہیں ان کو فوری طور پر بحال کیا جانا چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں