مودی کی تاج پوشی پر عمران خان کی آمد- سفارتی سطح پر کوششوں کا آغاز ،دونوں رہنمائوں کے درمیان بات چیت کا بھی امکان سارک ملکوں کے سربراہوں کو باضابطہ دعوت

نئی دہلی /ہندوپاک وزرائے اعظم مودی اور عمران خان کے درمیان ملاقات مودی کی تاج پوشی پر متوقع ہے کیونکہ وزیراعظم مودی نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں سارک ممالک کے سربراہان کو مدعو کرنے کا فیصلہ لیا ہے اور اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر تیاریاں جاری ہیں۔ نریندر مودی جنہوںنے لوک سبھا انتخابات میں بھاری اکثریت کےساتھ کامیابی حاصل کرلی ہے اور وہ دوسری بار ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف لے رہے ہیں ،تاہم بتایاجاتا ہے کہ مودی نے ایک مرتبہ پھر پہلی والی روایت قائم رکھنے کا فیصلہ لیا ہے جس میں مختلف ممالک کے سربراہوں کو مدعو کیا جارہا ہے جن میں سارک ممالک کے سربراہان پاکستان ، بنگلہ دیش ، سری لنکا ،نیپال شامل ہیں۔ایسے میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا نام بھی لیا جارہا ہے وہ انہیں بھی مودی اپنی حلف برداری تقریب میں مدعو کریں گے ۔اس سلسلے میںسفارتی سطح پر کوششیں تیز کر دی گئی ہیں اور وزرات خارجہ کی جانب سے دعوتی مکتوب تیار کئے جارہے ہیں جو کہ ان ممالک کے سربراہوںکو بھیجے جائیں گے اور سفارتی آداب کے مد نظر ان لیڈران کو مدعو کیا جائیگا ۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اگر حلف برداری کی تقریب منعقد ہوتی ہے اور پاکستانی وزیراعظم کو مدعو کیا جائیگا تو یقینی طور پر دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی یہ اہم ترین ملاقات ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ بالاکوٹ حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کافی حد تک کشید ہ ہیں اورنوبت باضابط جنگ تک پہنچ گئی تھی ، /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
ذرائع کا کہنا ہے کہ بالاکوٹ حملے کے بعد سے پیدا شدہ کشیدگی کودورکرنے کا یہ بہترین موقع تصور کیا جارہا ہے کہ اگرپاکستانی وزیراعظم حلف برداری تقریب میں شرکت کےلئے بھارت کا دورہ کریں گے تو دونوں ممالک کے درمیان یخ ٹوٹ سکتی ہے اور ایک مرتبہ پھر مذاکرات کاراستہ ہموار بھی ہوسکتا ہے کیونکہ عمران خان بالاکوٹ حملے کے فورابعد بھی کشیدگی کو دور کرنے کےلئے کئی بار پہل بھی کر چکے ہیںاور وہ اس کشیدگی کے بعد مودی کو فون پر بھی بات چیت کی کوشش کرچکے ہیںجس کے جواب میں مودی نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے ، ایسے میں عمران خان سمیت پوری پاکستانی قیادت نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ بھارت میں انتخابات کے پیش نظر مذاکرات کا راستہ ہموار نہیں ہوگا لہذا انتخابات ختم ہونے کے بعد ہی اس بارے میںامید لگائی جاسکتی ہے ، وزیراعظم عمران خان نے بھارتی انتخابات کے دوران ایک انٹرویو میں بھی کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارت کے اندر مودی ہی وزیراعظم دوبارہ منتخب ہوں کیونکہ ان کے دور میں ہی مذاکرات کو ایک صحیح سمت دی جاسکتی ہے اور ایسے میں دونوںممالک کے درمیان بامعنی مذاکرات اور کشمیر پر کسی پیش رفت کا بھی تصور کیا جاسکتا ہے ۔چنانچہ وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کو وزیراعظم مودی نے ان کی ریورس سوئنگ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنے انتخابات کے حوالے سے پر جوش ہیں اور عوام ان کے حق میں ہیں ۔ چنانچہ اب مودی کی تاج پوشی کی تقریب کےلئے بڑے پیمانے پر تیاریاں جاری ہیںاور اگر پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو مدعو کیا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا راستہ ہموار ہوگا اور کشیدگی وقتی طور پر زائل ہوسکتی ہے اور یوں ہندوپاک کے درمیان بالاکوٹ کے بعد جو کشیدگی کی فضا ہے وہ امن کی فضا میں تبدیل ہوسکتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس ملاقات کے بعد مودی کادورہ پاکستان بھی طے ہوجس کےساتھ ہی دوستی کے نئے سفر کا آغاز ہوسکے ۔ واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مودی کو انتخابی جیت اور دوبارہ وزیراعظم بننے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک آپسی تعلقات کو بہتر بنائیں تاکہ رشتوں کی بہتر بنایا جاسکے ،عمران خان نے مودی کے نام اپنے پیغام میں کہاکہ وہ مودی کو انتخابی جیت کےلئے مبادک باد پیش کرتے ہیں،ٹیلی فون پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ ان کی تاریخی جیت پر وہ امید ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت کی نئی حکومت بالخصوص مودی دوطرفہ تنازعات کو حل کرنے کےلئے بات چیت کا عمل شروع کریں گے اور انہوںنے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہی واحدراستہ ہے تاکہ خطے میںامن وامان کا کام کیا جا سکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں