پھر سے پیلیٹ چھروں کا استعمال

وادی میں فورسز کےلئے ایس او پی یعنی سٹنڈرڈ اوپریٹنگ پر و سیجر مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی فورسز کو ہدایت دی گئی ہے کہ جب ان کا سامنا مظاہرین کے ساتھ ہوگا تو وہ ان پر قابو پانے کےلئے طاقت کا کم سے کم استعمال کریں۔ اسی کو سٹنڈرڈ اوپریٹنگ پرو سیجر کہا جاتا ہے۔ اس بارے میں فورسز کو تحریری طور پر آگاہ کیاگیا ہے لیکن کیا عملی طور پر اس کا مظاہرہ کیاجاتا ہے یہ کہنا مشکل ہے کیوںکہ اس بات کا مشاہدہ کیاجاچکا ہے کہ مظاہرین کےخلاف طاقت کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیاجاتا ہے اس کا مظاہرہ فورسز نے حالیہ ایام میں کولگام ،اننت ناگ ،شوپیان اور پلوامہ میں کیا جہاں فورسز نے مظاہرین پر نہ صرف گولیاں چلائیں بلکہ پیلٹ کا بے تحاشہ استعمال کیا گیا جس سے ایک درجن سے زیادہ افراد جن میں ایک غیر ریاستی مزدور بھی شامل ہے بری طرح زخمی ہوگئے۔ اور ڈاکٹروں نے بعض کے بارے میں کہا کہ ان کی بینائی تک جاسکتی ہے۔ گذشتہ دنوں مظاہرین پر گولیاںچلانے سے بھی ایک نوجوان جاں بحق اور کئی شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ اسی طرح جمعتہ الوداع پر شہر خاص میں نوجوانوں نے جلوس نکالا جس کو آگے بڑھنے سے پولیس اور فورسز نے روکا جس پر فریقین کے درمیان تصادم آرائی شروع ہوگئی۔  میں بھی ایس او پی پر عمل درآمد کے بجائے فورسز نے مظاہرین پر بے تحاشہ پیلٹ کا استعمال کیانتیجے کے طور پر یہاں بھی پانچ چھ نوجوان شدید طور پر زخمی ہوگئے ۔ان سب کو صورہ اور صدر ہسپتال ریفر کیا گیا جہا ں ان کوطبی امداد فراہم کی جارہی ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بھی کئی ایک کی آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوسکتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر مہلک ہتھیار اور کیا ہوسکتا ہے ۔کیوںکہ پیلٹ سے نوجوانوں کی آنکھوں کی روشنی چلی جاتی ہے جس کا مطلب نوجوان کی پوری زندگی تباہ و بر باد ہوجاتی ہے ۔آنکھوں کی بینائی کے بغیر انسان کی زندگی ایک چلتی پھرتی لاش جیسی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے فورسز اور نیم فوجی دستوں کو اس بات کی ہدایت دی ہوئی ہے کہ وہ مظاہرین سے نمٹتے وقت طاقت کا کم سے کم استعمال کریں لیکن جب اس کا عملی طور پر مظاہرہ کرنے کا وقت ہوتا ہے تو دیکھا جاتا ہے کہ فورسز اہلکار نہ آو دیکھتے ہیں اور نہ ہی تائو بے دھڑ ک پیلٹ فائیرنگ کا استعمال کرنے کےلئے نوجوانوں کی زندگیوں کو عمر بھر کےلئے تاریک بناتے ہیں۔ ان حالات میں گورنر انتظامیہ کو متعلقہ حکام کے ساتھ یہ معاملہ اُٹھاناچاہئے۔ تاکہ واقعی ایس او پی پر عمل ہو۔ ورنہ یہی سمجھا جائے گا کہ یہ سب کچھ زبانی جمع خرچ کے تحت کیاجارہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جوافراد پیلٹ چھروں سے زخمی ہوگئے ہیں اور جن کی بینائی متاثر ہونے کا خدشہ ڈاکٹر ظاہر کررہے ہیں ان کو سرکاری خرچے پر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کیجائیں ۔ جو لوگ پیلٹ چھروں سے زخمی ہوگئے ہیں وہ تقریبا ًسب کے سب بے گناہ او ر معصوم ہوتے ہیں۔ اسلئے ان کی جانب انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیاجانا چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں