کشمیر پر سخت پالیسی اپنانے کا فیصلہ، وزیرداخلہ امیت شاہ کا اعلان، کہا عسکریت پسندوں اور علیحدگی پسندوں کو کسی بھی صورت میں سراُٹھانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی

ریاست میں عسکریت اور کورپشن کا خاتمہ مرکز کی اولین ترجیح

سرینگر/ جے کے این ایس /نو منتخب وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں عسکریت پسندوں کے تئیں مرکزی حکومت زیروٹالرنس کی پابند ہے پر اور اس میں تبدیلی لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وزیر داخلہ کے مطابق ریاست جموں وکشمیر میں کرپشن میں ملوث بڑے مگر مچھوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا وقت آگیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ سیکورٹی ایجنسیوں کو حالات معمول پر لانے کیلئے مکمل اختیارات دئے گئے ہیں۔ وزیر داخلہ نے سیکورٹی ایجنسیوں پر زور دیا کہ وہ تنقید پر کان نہ دھریں بلکہ عسکریت پسندوں اور علیحدگی/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 پسندوں کے تئیں سخت پالیسی جاری رکھے۔ جموںوکشمیر بینک چیرمین کو اپنے عہدے سے ہٹانے کے بیچ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے واضح کیا کہ جو کوئی بھی آفیسر یا اہلکار کرپشن میں ملوث پائے گا اُس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر کے تئیں نرم موقف رکھنے والی سیاسی پارٹیوں نے سرکاری اداروں کا غلط استعمال کیا ہے تاہم اب وقت آگیا ہے کہ ایسے آفیسران کو سبق سکھایا جائے جنہوں نے عوام کیلئے مختص رقومات کی بندر بانٹ کی ہے۔ کشمیر پالیسی کے متعلق مرکزی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے کشمیر کے متعلق جو پالیسی اپنائی وہ صحیح سمت میں جا رہی ہے اور اُس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سرگرم جنگجوئوں اور علیحدگی پسندوں کے تئیں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی بلکہ اُن کے خلاف مزید سخت اقدامات اُٹھانے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ مرکزی وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ریاست میں حالات کو معمول پر لانے کیلئے سیکورٹی ایجنسیاں دن رات کام کر رہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سیکورٹی فورسز کو عسکریت کا خاتمہ کرنے کیلئے مکمل اختیارات دئے گئے ہیں۔ امیت شاہ کا مزید کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز کو کسی فرد یا تنظیم کی جانب سے تنقید پر دھیان مرکو ز نہیں کرنا چاہئے بلکہ ایسے افراد جو ملک کے خلاف زہر اگل رہے ہیں اُنہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے ۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اُن کی وزارت نے سیکورٹی ایجنسیوں کو عسکریت کا قلع قمع کرنے کی خاطر مکمل آزادی دی ہے۔ادھر  نئی دہلی میں وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی سربراہی میں میٹنگ منعقد ہوئی جس دوران فوجی چیف ، را ، انٹیلی جنس بیورو کے سربراہا ن نے بھی شرکت کی۔ میٹنگ کے دوران وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کو کشمیر کی تازہ ترین سیکورٹی صورتحال پر آگاہی فراہم کی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران دونوں مرکزی وزرائ کو بتایا گیا کہ ریاست خاص کرو ادی کشمیر میں عسکریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے سیکورٹی ایجنسیاں دن رات کام کر رہے ہیں۔ فوجی چیف نے مرکزی وزرائ کو بتایا کہ حالیہ کچھ ایام کے دوران سیکورٹی فورسز نے جنگجو مخالف آپریشن کے دوران درجنوں عسکریت پسندوں کو مار گرایا جن میں کئی جنگجو کمانڈر بھی شامل ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سیکورٹی ایجنسیوں عسکریت پسندوں پر مسلسل دباو بنا ئی رکھی ہوئی ہے تاکہ ملی ٹینٹوں کے منصوبوں کو خاک میں ملایا جاسکے۔ ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران مرکزی وزرائ کو جانکاری فراہم کی گئی کہ ریاست جموں وکشمیر میں فی الوقت 260سے 290کے قریب عسکریت پسند سرگرم ہیں۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے آفیسران پر زور دیا کہ وہ ریاست جموںوکشمیر میں سرگرم عسکریت پسند وں کا مار گرانے کیلئے اقدامات اُٹھائیں تاکہ وادی میں امن و امان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔ وزیر داخلہ کے مطابق مرکزی حکومت ریاست میںامن کو بنائے رکھنے کی خاطر کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے میٹنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر دراندازی کو روکنے کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ کو آئندہ ماہ سے شروع ہونے والی سالانہ امرناتھ یاترا کے بارے میں سیکورٹی سے متعلق اٹھائے گئے انتظامات کی جانکاری بھی دی گئی،جبکہ وہ ممکنہ طور پر عنقریب ہی ریاست کا دورہ کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹنگ میں مرکزی سیکریٹری داخلہ راجیو گبا اور سنیئر افسران بھی موجود تھے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں