عدلیہ نے کٹھوعہ کیس کا بہترین فیصلہ سنایا ہے :ڈاکٹر فاروق

سرینگر/ یو این آئی /نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کے عدالتی فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پٹھان کوٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے ایک بہترین فیصلہ/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 سنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرائم برانچ کے تحقیقاتی افسران مبارکبادی کے مستحق ہیں کیونکہ بقول ان کے انہوں نے دبائو کے باوجود تحقیقات کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔فاروق عبداللہ نے کہا: 'میں کرائم برانچ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس پر دبائو آیا لیکن یہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا۔ کرائم برانچ کے افسران نے پوری ایمانداری سے کیس کی تحقیقات کی اور اس کو عدالت تک پہنچایا'۔انہوں نے کہا: 'میں جج صاحب کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے سب کو سنا اور اس کے بعد ایک بہترین فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کی چوطرفہ سراہنا کی گئی ہے'۔فاروق عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ عدلیہ ہمیشہ آزاد رہے گی اور صحیح فیصلے سناتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا: 'ہمیں ڈر تھا کہ دلی میں بننے والی نئی حکومت کہیں اداروں کو زک پہنچانا شروع نہ کردیں۔ ایک ادارہ جو بچ گیا ہے وہ عدلیہ ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ عدلیہ اسی طرح آزاد رہے گی اور صحیح فیصلے سناتی رہے گی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں