سوپور اور شوپیان معرکوں میں 2 جنگجو جاں بحق، دونوں کا تعلق انصار غزوۃ الہند سے تھا
مظاہرین کو منتشر کرنے کےلئے شلنگ،انٹرنیٹ سروس معطل ،کاروباری ادارے بند 

سوپور/ شوپیان / عابد نبی / نیازحسین / جے کے این ایس / کے این ایس /یو پی آئی /واڈورہ سوپور میں سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپ جاری ہے۔ آئی جی کشمیر کے مطابق دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے فی الحال ملی ٹینٹ کے مارے جانے کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ آئی جی کشمیر ایس پی پانی نے کہاکہ واڈورہ سوپور میں سیکورٹی فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان جھڑپ جاری ہے۔ انہوںنے کہاکہ مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد واڈورہ سوپور علاقے کو محاصرے میں لیا گیا جس دوران گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا۔ آئی جی کشمیر سے جب پوچھا گیا کہ میڈیا میں افواہیں گشت کررہی ہے کہ واڈورہ سوپور میں ایک جنگجو جاں بحق ہوا ہے تو اُنہوںنے اسکی نفی کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی تک کسی بھی جنگجو کی لاش برآمد نہیں ہوسکی ہے۔ انہوںنے کہاکہ چونکہ علاقے میں جھڑپ جاری ہے ۔ تصادم ختم ہوتے ہی اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم کی جاسکتی ہے۔ ادھرشوپیان کے آونیرہ گائوں میں طلوع آفتاب سے قبل ہی فوج و فورسز اور جنگجوئوں کے/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 مابین مسلح تصادم آرائی کے نتیجے میںانصار غزوۃ الہند سے وابستہ 2جنگجوجاں بحق ہوگئے جن کی تحویل سے پولیس کے مطابق قابل اعتراض مواد کےساتھ ساتھ اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ اس دوران علاقے میں جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی نوجوانوں کی متعدد ٹولیوں نے سڑکوں پر آکر فورسز کارروائی کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی شروع کی تاہم فورسز نے مظاہرین کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے درجنوں آنسو گیس کے شل داغے۔ ادھر انتظامیہ نے علاقے میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی خاطر ضلع بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل رکھا۔ اس دوران شوپیان اور یاری پورہ کولگام میں مارے گئے جنگجوئوں کی یاد میں ہڑتال سے معمولات زندگی متاثر ہوئے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حرکت بھی مسدود ہوکے رہ گئی۔  پہاڑی ضلع شوپیان کے آونیرہ گائوںمیں منگلوار کی علی الصبح ہوئی معرکہ آرائی میں انصار غوزۃ الہند سے وابستہ 2جنگجو جاں بحق ہوگئے۔ معلوم ہوا کہ فوج کی 1آر آر، سی آر پی ایف اور جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ مشترکہ پارٹی نے جنگجوئوں سے متعلق مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد آونیرہ گائوں کا سخت محاصرہ عمل میں لایا۔ فورسز نے اس موقعے پر گائوں کے اندرون و بیرونی راستوں کو اپنی تحویل میں لے کر لوگوں کی نقل و حرکت کا ناممکن بنایا جس کے بعد یہاں گھر گھرتلاشی کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ فورسز کو گائوں میں 2سے 3جنگجوئوں کے چھپے ہونے کی اطلاع موصول ہوچکی تھی جس کے بعد یہاںوسیع پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشن عمل میں لایا گیا۔ پولیس نے انکائونٹر سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مرحلے کے دوران جونہی تلاشی پارٹی نے مشتبہ مقام کی طرف پیش قدمی شروع کی تو یہاں چھپے بیٹھے جنگجوئوں نے فورسز پر شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی گائوں میںجھڑپ شروع ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز کی ابتدائی کارروائی کے دوران جائے جھڑپ پر ایک جنگجو گولی لگنے سے ہلاک ہوا تاہم یہاں موجود دوسرا جنگجو فورسز پر وقفے وقفے سے فائرنگ کرتا رہا۔انہوں نے کہا کہ فورسز نے اس موقعے پر جائے جھڑپ کے ارد گرد سخت محاصرہ عمل میں لایا یہاں مزید جنگجوئوں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کیا جس کے ساتھ ہی دوسرے جنگجو کو بھی مار گرایا گیا۔ اس ددران پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پے بتایا کہ مارے گئے جنگجوئوں کی شناخت سیار احمد بٹ ولد ثنائ اللہ ساکن مانچھواہ کولگام اور شاکر احمد وگے ساکن آونیرہ شوپیان کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس افسر کے بقول مارے گئے دونوں جنگجوئوں کا تعلق انصار غزوۃ الہند سے ہے ، جو پولیس و فورسز کو کافی عرصے سے مطلوب تھے۔ دریں اثنا جموں وکشمیر پولیس نے مارے گئے جنگجوئوں سے متعلق باضابطہ جاری بیان میں کہا کہ دونوں جنگجو دولت اسلامیہ کی آئیڈیالوجی سے متاثر ہوئے تھے۔پولیس کے بقول آونیرہ شوپیان میں مارے گئے دونوں جنگجو دولت اسلامیہ کی آئیڈیالوجی سے متاثر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق دونوں جنگجو آئی ایس کی آئیڈیالوجی سے متاثر تھے جو کئی جرائم میں پولیس و فورسز کو کافی عرصے سے مطلوب تھے۔پولیس کے بقول مارے گئے جنگجو سیکورٹی فورسز پر حملوں اور عام شہریوں پر ظلم و جبر روا رکھنے میں ملوث رہے ہیں۔ ادھر پولیس ریکارڈ میں مارے گئے دونوں جنگجوئوں سے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ جنگجوئوں کے اُس گروپ سے منسلک رہے ہیں جنہوں نے فورسز اور عام شہریوں پر حملوں کی سازش رچی اور ان کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔پولیس ترجمان کے بقول شاکر وگے نامی جنگجو زینہ پورہ شوپیان کے عرفان حمید شیخ کی ہلاکت میں ملوث رہا ہیں جس کے خلاف ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر 25/2019درج ہے۔ترجمان کے مطابق مارے گئے جنگجوئوں کے قبضے سے قابل اعتراض مواد اور اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا گیا ہے۔ ادھر گائوں میں جھڑپ شروع ہوتے ہی انتظامیہ نے ضلع بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک معطل کردیا ۔ دریں اثنا گائوں میں جھڑپ شروع ہونے کے بعد نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر آکر فورسز کے خلاف سخت احتجاج کیا اور اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے لگائے۔عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مطاہرین نے اس موقعے پر فورسز کارروائی کو متاثر کرنے کی خاطر سنگ باری کی جس کے بعد یہاں کچھ وقفے تک صورتحال ابتر ہوئی تاہم فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغے۔ علاقے میں کئی گھنٹوں تک وقفے وقفے سے احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔ ادھر جھڑپ میں مارے گئے جنگجوئوں کے آبائی علاقوں میں مکمل ہڑتال سے معمولات کی زندگی بری طرح سے متاثر ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق آونیرہ شوپیان اور یاری پورہ کولگام میں جنگجوئوں کی ہلاکت کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی یہاں تمام قسم کی سرگرمیاں ٹھپ ہوئی جبکہ سڑکوں سے گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی بند ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ اس دوران نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے یہاں سڑکوں پر چل رہی گاڑیوں پر سنگ باری کی۔ادھر پولیس نے مارے گئے جنگجوئوں کی لاشیں طبی و قانونی لوازمات کے بعد لواحقین کے سپرد کردی جس کے بعد انہیں متعلقہ علاقوں میں پہنچاتے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد کی موجودگی میں سپرد لحد کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ دونوں علاقوں میں برستی بارش کے بیچ لوگوں کی بڑی تعداد کی موجودگی میں مارے گئے جنگجوئوں کو سپرد لحد کیا گیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں