بنک چیرمین کی برطرفی اور عبوری تعیناتی سے متعلق طریق کار صحیح نہیں! سرکار ی فیصلے سے بنک کے مستقبل کو شدید دھچکا لگا: : سابق چیرمین

سرینگرñکے این ایس ñجموں وکشمیر بنک کے سابق چیرمین محمد یوسف خان نے سرکار کی جانب سے بنک چیرمین کی برطرفی کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے بتایا کہ حالات کے ساتھ نمٹنے کےلئے دوسرا طریق کار بھی اختیار کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سرکار کی جانب سے حالیہ کارروائی سے بنک کے مستقبل کو شدید دھچکا لگا ہے جس کی تلافی ایک کٹھن کام ہے۔انہوں نے سرکار اور بنک انتظامیہ کو اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ صارفین کے اعتماد کو بحال کرنے کےلئے انہیں اعتماد میں لیں۔ جموں وکشمیر بنک کے سابق چیرمین محمد یوسف خان نے جموں وکشمیر بنک سے جڑے تازہ تنازعے پر اپنے ردعمل میں واقعے کو بدقسمتی سے تعبیر کیا ہے۔ کشمیرنیوز سروس کےساتھ بات چیت کے دوران سابق چیرمین نے بتایا کہ گزشتہ دنوں سرکار کی جانب سے بنک چیرمین کی ہنگامہ خیز برطرفی قدقسمتی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ سرکار نے چیرمین کی برطرفی سے متعلق جو طریق کار اپنایا وہ شایان شان نہیں تھا بلکہ اس کو مہذب انداز سے بھی نپٹا جاسکتا تھا۔خان کے بقول جس طرح ایک شخص کو اپنے عہدے سے برطرف کرکے دوسرے شخص کو عبوری چیرمین مقرر کیا گیا ، ایسا قطعی طور پر نہیں ہونا چاہیے تھا۔سابق چیرمین کے مطابق بحیثیت ایک عہدہ دار کے ہم سرکار، سرمایہ دار اور شیئر ہولڈروں کے سامنے جوابدہ ہے۔ جموں وکشمیر بنک ریاستی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ ادارہ دریاست کا اہم ترین اور مؤقر ادارہ ہے جس کے ساتھ عوام کی توقعات وابستہ ہے۔سرکار نے برطرفی اور تعیناتی سے متعلق جو طریق کاراختیار کیا وہ صحیح نہیں تھا بلکہ اس کے برعکس دوسرے طریق کار کو اختیار کرنے کی ضرورت تھی۔ایک سوال کے جواب میں محمد یوسف خان نے بتایا کہ سرکار کی حالیہ کارروائی کے نتیجے میں بنک کے مستقبل کو کافی دھچکا لگا ہے جس کو پُرکرنا آسان کام نہیں ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں