تہار جیل میں کشمیری نظربندوں کی حالت زار مزاحمتی قیادت نے عالمی اداروں سے مداخلت کی اپیل کی

سرینگر/ اخبارات کےلئے جاری کئے گئے ایک تحریری بیان میںمشترکہ مزاحمتی قیادت نے ریاست جموں کشمیر کے جملہ حریت پسند اسیران زندان کے /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
ساتھ جیل حکام کی طرف سے انتہائی ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک روا رکھے جانے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور ریاست سے باہر تمام جیل خانوں کے اندر اسیران زندان کے ساتھ جیل انتظامیہ کی طرف سے متعصبانہ اور انتقام گیرانہ روئیے سے قیدیوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے دلی کی تہاڑ جیل میں جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے حریت پسند قائدین اور کارکنوں کو جیل کے اندر آئے روز ایک جیل خانہ سے دوسرے جیل خانہ میں منتقل کرنا، تلاشی کے بہانے قیدیوں کے نجی سامان کو تتر بتر کرنا، جیل کے اندر سزا یافتہ پیشہ ور مجرمین، قاتل اور ڈاکوں کے جُھنڈ میں حریت پسند قیدیوں کے حوالے سے دیش دروہی اور آتنک وادی جیسے نازیبا القاب کی رٹ لگا کر ایک زہر آلود فضا کو ہوا دینے سے جملہ حریت پسندوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کردیا گیا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے کچھ عرصہ قبل ریاست کے ساتھ تعلق رکھنے والے قیدیوں کو ایک ہی بارک میں مقید رکھنے سے کسی حد تک انہیں راحت کی سانس نصیب ہونے لگی تھی، لیکن جیل حکام نے اپنے تازہ ترین کارروائی میں حریت پسند قیدیوں کو پھر سے علیحدہ بارکوں میں منتقل کرکے قیدیوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے مترادف اس ظالمانہ کارروائی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ان قیدیوں کی زندگی کو کوئی گزند پہنچی اس کی تمام تر ذمہ داری ظالم جیل حکام کے علاوہ بھارت کی  ارباب اقتدار پر عائد ہوگی۔ مزاحمتی قیادت نے سرینگر سینٹرل جیل اور امپھلا جموں جیل کے علاوہ کٹھوعہ، کوٹ بھلوال، ہیرا نگر، ریاسی اور اُدھمپور جیلوں سے بیشتر قیدیوں کو ریاست سے باہر بھارت کے دور دراز جیلوں میں منتقل کرنے کی غیر انسانی کارروائی کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ قائدین نے محبوس حریت پسند قائدین اور کارکنوں بشمول محمد یٰسین ملک، شبیر احمد شاہ، مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، سیدہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، نعیم احمد خان، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی، سید شاہد یوسف، سید شکیل احمد، ڈاکٹر محمد قاصم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، محمد یوسف فلاحی، محمدیوسف میر، عبدالاحد پرہ، عبدالغنی بٹ، ڈاکٹر حمید فیاض، شیخ محمد رمضان، مشتاق احمد ویری، عبداللہ ناصر، غلام قادر بٹ، نذیر احمد شیخ، محمد ایوب ڈار ، طارق احمد، مظفر احمد ڈار، محمد حسین، پیر محمد اشرف، مشتاق احمد حرہ، یٰسین احمد ہرہ، سمیع اللہ، اسد اللہ پرے، حکیم شوکت، معراج الدین نندہ، بشارت بزاز، طارق احمد پنڈت، محمد حسین، ہلال احمد بیگ، نور محمد کلوال، بشیر احمد بٹ، ایڈوکیٹ زاہد علی، اشتیاق احمد وانی، ڈاکٹر محمد سلیم، مولانا سرجان برکاتی، عبدالحی، آصف سلطان اور عبدالرشید شگن وغیرہ کے صبرو استقلال اور عزم بالجزم کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ سے وابستہ انسانی حقوق کمیشن، عالمی ریڈکراس، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشیا واچ جیسے عالمی اداروں کو بھارت کے جیل خانوں اور عقوبت خانوں کے اندر محبوس جموں کشمیر کے مزاحمتی قائدین اور کارکنوں کے ساتھ ہورہی انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا سنجیدہ نوٹس لیا جانا چاہیے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں